• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
ہفتہ 21 فروری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

صہیونی جیلوں میں قید صحافیوں پر تشدد کے لرزہ خیز حقائق

فلسطینی صحافیوں کو رپورٹنگ اور سچ بیان کرنے پر گرفتار کر کے سخت جسمانی و ذہنی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

ہفتہ 21-02-2026
in خاص خبریں, رپورٹس, صیہونیزم
0
صہیونی جیلوں میں قید صحافیوں پر تشدد کے لرزہ خیز حقائق
0
SHARES
5
VIEWS

(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) صحافیوں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی بین الاقوامی کمیٹی (سی پی جے) کی ایک تازہ اور مفصل عالمی تحقیقاتی رپورٹ نے انسانیت کا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ یہ رپورٹ صرف اعداد و شمار کا مجموعہ نہیں، بلکہ ان فلسطینی صحافیوں کی سسکیوں اور لہو سے لکھی گئی داستان ہے جنہوں نے قابض اسرائیل کے تاریک عقوبت خانوں میں موت اور زندگی کی کشمکش دیکھی ہے۔ رپورٹ اس ہولناک حقیقت کو بے نقاب کرتی ہے کہ غاصب صہیونی ریاست نے سچ کا گلا گھونٹنے کے لیے تشدد، تذلیل اور انسانیت سوز سلوک کو ایک باقاعدہ ریاستی پالیسی کے طور پر اپنا لیا ہے۔

’وی ریٹرن فرام ہل‘ (ہم جہنم سے لوٹے ہیں) کے عنوان سے جاری ہونے والی اس رپورٹ میں ان 59 صحافیوں کے لرزہ خیز انٹرویوز شامل ہیں جو اکتوبر سنہ 2023ء سے جنوری سنہ 2026ء کے درمیان قابض اسرائیل کی قید سے رہا ہوئے۔ یہ وہ نڈر قلم کار ہیں جنہوں نے غزہ کی پٹی پر جاری نسل کشی کی وحشت کو دنیا کے سامنے پیش کرنے کی پاداش میں اسرائیلی وحشیوں کے ہاتھوں اپنی روح اور جسم پر گہرے زخم کھائے۔

جسمانی و نفسیاتی اذیت رسانی، سچائی کے اسیروں پر ڈھائے گئے ستم

تحقیقات کے مطابق 59 میں سے 58 صحافیوں نے بتایا کہ انہیں ان عقوبت خانوں میں ایسے مظالم کا نشانہ بنایا گیا جن کا تصور کر کے روح کانپ اٹھتی ہے۔ صحافی احمد عبدالعال کی بپتا سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے، انہیں پانچ روز تک آنکھوں پر پٹی باندھ کر ایک ایسے جہنم نما کال کوٹھڑی میں رکھا گیا جہاں بلند آہنگ عبرانی موسیقی ان کے اعصاب کو چھلنی کرتی رہی۔ جب بھی وہ نیم بے ہوشی کے عالم میں گرتے، وحشی صہیونی انہیں بجلی کے جھٹکوں اور وحشیانہ مار پیٹ سے دوبارہ ہوش میں لاتے تاکہ اذیت کا سلسلہ ٹوٹنے نہ پائے۔

ایک اور گمنام صحافی نے اس "ڈسکو روم” کی ہولناکی بیان کی جہاں قیدیوں کی مردانگی کو نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے ان کے نازک اعضاء کو پلاسٹک کی پٹیوں سے جکڑ کر اس قدر تشدد کیا کہ وہ خون کے آنسو رونے پر مجبور ہو گئے۔ ایک جلاد صفت فوجی نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکتے ہوئے کہا کہ "تم اب کبھی مرد نہیں بن پاؤ گے”۔

فوٹو جرنلسٹ شادی ابوسیدو جنہیں الشفاء ہسپتال سے اغوا کیا گیا بتاتے ہیں کہ ان کی اسیری کا آغاز ہی ایک فوجی کے اس کینہ پرور جملے سے ہوا کہ "کھیل ختم ہو چکا”۔ انہیں "تشریفہ” نامی اس اجتماعی تشدد سے گذارا گیا جہاں درجنوں بوٹوں اور لاٹھیوں نے ان کی پسلیاں توڑ ڈالیں۔ صحافی مصطفیٰ خواجا کی ٹوٹی ہوئی پسلیاں اور ریڑھ کی ہڈی کے زخم آج بھی اس سفاکیت کی گواہی دے رہے ہیں۔

عصمت دری اور بھوک کا کرب، تذلیل کی انتہا

رپورٹ میں جنسی تشدد کے وہ ہولناک پیٹرن بھی سامنے آئے ہیں جنہیں سن کر عرشِ الہیٰ لرز جائے۔ دو صحافیوں نے دورانِ حراست اپنی عصمت دری کی تصدیق کی، جبکہ درجنوں دیگر کو برہنہ کر کے ان کی فلمیں بنائی گئیں اور ان پر تربیت یافتہ کتے چھوڑے گئے۔ صحافی اسامہ السید نے بتایا کہ کس طرح اسرائیلی فوجی قیدیوں کو برہنہ کر کے ان کی تذلیل کرتے اور قہقہے لگاتے ہوئے اس وحشت کی فلم بندی کرتے تھے۔

بھوک کو بھی ان عقوبت خانوں میں ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا گیا۔ صحافی احمد شقورہ نے چودہ ماہ کی قید میں اپنا 54 کلوگرام وزن کھو دیا، گویا وہ جیتے جاگتے انسان سے ایک ڈھانچہ بن گئے۔ خاتون صحافی اشواق عیاد کی حالت اس قدر ابتر کر دی گئی کہ وہ قید تنہائی میں خون کی الٹیاں کرنے لگیں، لیکن ان ظالموں کے دل نہ پگھلے۔

طبی غفلت اور پیشہ ورانہ عداوت

قابض اسرائیل کی سفاکیت صرف تشدد تک محدود نہ تھی، بلکہ زخمی صحافیوں کو علاج سے محروم رکھنا بھی اس کا ایک طریقہ تھا۔ ثائر فاخوری نے تڑپتے ہوئے بیس دن اندھیرے میں گزارے کیونکہ تشدد سے ان کی بینائی چلی گئی تھی اور صہیونی ڈاکٹروں نے علاج سے انکار کر دیا تھا۔ یوسف شرف نے بتایا کہ کس طرح ایک قیدی سرجن نے ہسپتال کے اوزاروں کی جگہ صفائی کے عام آلات سے زخمیوں کے آپریشن کیے، کیونکہ صہیونی انتظامیہ نے دوائیاں اور طبی سامان دینے سے انکار کر دیا تھا۔

ایتمار بن گویر جیسے متعصب وزراء کے دوروں کے بعد ان مظالم میں مزید شدت آ جاتی، جہاں "شین بیٹ” کے جلاد قیدیوں پر خونخوار کتے چھوڑ کر جشن مناتے۔ صحافی امین برکہ کو وائل الدحدوح کی مثال دے کر دھمکایا گیا کہ "جس نے ہمیں چیلنج کیا، ہم نے اس کے خاندان کو مٹی میں ملا دیا”۔

قانونی تحفظ سے محرومی اور عالمی ضمیر کا امتحان

تحقیق بتاتی ہے کہ 80 فیصد صحافیوں کو "انتظامی حراست” کے اس کالے قانون کے تحت قید کیا گیا جہاں کوئی وکیل ہوتا ہے اور نہ ہی کوئی الزام۔ انہیں وکیل سے بات تک کرنے کی اجازت نہیں دی گئی اور رہا ہونے کے بعد بھی سچ بولنے پر سنگین نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

"سی پی” جے نے اپنی رپورٹ کے اختتام پر عالمی برادری کو پکارا ہے کہ وہ اسرائیل کے ان جنگی جرائم پر خاموشی توڑے۔ یہ رپورٹ پکار پکار کر کہہ رہی ہے کہ اگر آج بھی عالمی ضمیر نہ جاگا تو سچائی کا خون کرنے والے یہ صہیونی جلاد انسانیت کے ہر نشان کو مٹا دیں گے۔

Tags: #WarCrimesDetentionHumanRightsHumanRightsViolationsIsraeliPrisonsMediaFreedomOccupationPalestinianJournalistsPressUnderAttackPrisonAbuse
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.