مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی قومی کمیٹی برائے عوامی جدوجہد نے فلسطینی اتھارٹی کے سکیورٹی اداروں کی جانب سے کمیٹی کے رکن اور ممتاز سیاسی کارکن عمر عساف کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کمیٹی نے اس کارروائی کو فلسطینی حقیقت کو دوبارہ جبر و استبداد کے تاریک دور میں دھکیلنے اور شہریوں کے آئینی حقوق پر حملہ قرار دیا ہے۔
کمیٹی نے پریس کو جاری کردہ ایک بیان میں اس بات پر زور دیا کہ عمر عساف کو پراسیکیوٹر جنرل کے سامنے پیش کرنا اور ان پر اظہارِ رائے کی آزادی و قومی موقف سے متعلق الزامات عائد کرنا درحقیقت ان فلسطینی عوامی جذبات کو کچلنے کی کوشش ہے جو اہم ترین قومی مسائل پر خاموشی کی پالیسی کو مسترد کرتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ ان کی حراست میں 15 دن کی توسیع کا فیصلہ جابرانہ اقدامات میں اضافے اور تمام تر قومی اقدار سے تجاوز کی ایک بدترین مثال ہے۔
قومی کمیٹی نے سیاسی و نقابی کارکنوں کے خلاف ہر قسم کے سکیورٹی تعاقب کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے تمام سیاسی قوتوں، دھڑوں اور سول سوسائٹی کے اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ آوازوں کو دبانے اور زبان بندی کی اس پالیسی کے خلاف سیسہ پلائی ہوئی دیوار بن جائیں۔
کمیٹی نے مطالبہ کیا کہ سیاسی گرفتاریوں کے اس سیاہ باب کو فوری طور پر بند کیا جائے اور شہریوں کے حقوق کی پامالی کرنے والوں کا محاسبہ شروع کیا جائے، نہ کہ ان لوگوں کا تعاقب کیا جائے جو اپنے اظہارِ رائے کا بنیادی حق استعمال کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے سکیورٹی ادارے ’سکیورٹی فورسز‘ نے عمر عساف کو گذشتہ رات مغربی کنارے کے وسط میں واقع شہر رام اللہ میں ان کے گھر سے محض ان کے سیاسی موقف اور آزادیِ رائے کی بنیاد پر گرفتار کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ گرفتاری اس بیان کے پس منظر میں عمل میں آئی ہے جس پر عمر عساف سمیت 200 سے زائد شخصیات نے دستخط کیے تھے۔ اس بیان میں ایران پر امریکی و اسرائیلی جارحیت کا تذکرہ کرتے ہوئے خطے سے تمام غیر ملکی فوجی اڈوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔
عمر عساف فلسطینی عوام کے درمیان مزدوروں کے حقوق اور سول سوسائٹی کے دفاع میں اپنی سرگرمیوں اور آزادیوں پر پابندی لگانے والی پالیسیوں کے خلاف اپنی جرات مندانہ آواز کی وجہ سے پہچانے جاتے ہیں۔