• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعہ 6 فروری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home پی ایل او

تنازعہ کے باعث فلسطینی حجاج کے لیے مشکلات بڑھنے کا خدشہ

حکومتی کمیٹی کے ساتھ اختلافات کے باعث حج کمپنیوں نے سرگرمیاں روک دیں۔

جمعہ 06-02-2026
in پی ایل او, خاص خبریں, فلسطین
0
تنازعہ کے باعث فلسطینی حجاج کے لیے مشکلات بڑھنے کا خدشہ
0
SHARES
8
VIEWS

غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی میں قائم حج اور عمرہ کمپنیوں نے سنہ 2026ء کے حج سیزن میں اپنی شرکت معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ حکومتی کمیٹی کی جانب سے طریقہ کار پر عائد کی گئی پابندیوں کے خلاف احتجاج کے طور پر کیا گیا ہے۔ کمپنیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو مغربی کنارے سے سعودی عرب تک فلسطینی حجاج کی منتقلی کا عمل بھی متاثر ہو سکتا ہے۔

یہ فیصلہ مغربی کنارے میں رواں سیزن کے لیے حج قرعہ اندازی کے ساتھ ہی سامنے آیا جو جمعرات کے روز منعقد ہوئی۔

متعلقہ یونین نے ایک صحافتی بیان میں وضاحت کی کہ یہ فیصلہ حج امور کے نظم و نسق کے لیے مقرر حکومتی کمیٹی کے ساتھ اختلافات کے بعد کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ دونوں فریق حجاج کے ہمراہ جانے والے انتظامی عملے کی تعداد پر اتفاق کرنے میں ناکام رہے۔ یہ مسئلہ اب سیزن کی تیاریوں کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے اور فریضہ حج ادا کرنے کے خواہش مند افراد میں شدید تشویش پیدا کر رہا ہے۔

اختلاف کی بنیادی وجہ کمپنیوں کی جانب سے فراہم کیے جانے والے انتظامی عملے کی تعداد ہے۔ کمپنیوں کا مطالبہ ہے کہ ہر بس کے ساتھ ایک منتظم مقرر کیا جائے تاکہ خدمات کا معیار اور حجاج کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔ اس کے برعکس حکومتی کمیٹی ہر تین بسوں کے لیے صرف ایک منتظم پر اصرار کر رہی ہے۔

یونین نے زور دیا کہ حکومتی کمیٹی کے اسی مؤقف پر اصرار نے کمپنیوں کو کام معطل کرنے پر مجبور کیا ہے۔ یونین نے واضح کیا کہ اگر موجودہ حالات برقرار رہے تو کمپنیاں حج سیزن میں شریک نہیں ہوں گی۔

یونین کے مطابق ان شرائط کے تحت کام جاری رکھنا ممکن نہیں کیونکہ اس سے حجاج کے ساتھ مناسب رفاقت نہ ہونے کی صورت میں کمپنیوں کی ساکھ اور موجودگی کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یونین نے کہا کہ اس فیصلے کا مقصد ایک بہتر طریقہ کار کی طرف واپسی ہے جو حج سیزن کے دوران کمپنیوں پر عائد بھاری ذمہ داریوں کے مطابق خدمات کی فراہمی کو یقینی بنائے۔

بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ کمپنیاں اپنے کام کو محدود کرنے کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتی ہیں۔ یہ موقف کمپنیوں کے مطالبات پر ثابت قدمی کی عکاسی کرتا ہے اور اس بات کا عندیہ دیتا ہے کہ اگر جلد کوئی حل نہ نکالا گیا تو صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے جس کا براہ راست اثر حج سیزن کے انتظامات پر پڑے گا۔

حج سیزن میں کام معطل کرنے کا یہ قدم ایک ایسے بحران کا نقطہ عروج ہے جس کے آثار گذشتہ چند ہفتوں سے ظاہر ہو رہے تھے۔ دستیاب معلومات کے مطابق یہ اختلافات وزیراعظم کے دفتر کی جانب سے حج کی حکمرانی اور اخراجات میں کمی کے عنوان سے کیے گئے فیصلوں کے بعد پیدا ہوئے جنہیں کمپنیاں غیر حقیقی اور حجاج کو دی جانے والی بنیادی خدمات پر ضرب قرار دیتی ہیں۔

اختلاف کے نمایاں نکات میں سے ایک یہ ہے کہ حکومت ہر 100 حجاج کے لیے صرف ایک منتظم مقرر کرنے کی پالیسی پر قائم ہے جبکہ کمپنیاں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ مناسک کی سخت نوعیت اور بزرگ مرد و خواتین کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے جن کی مجموعی تعداد تقریباً 6600 حجاج ہے ہر 100 حجاج کے لیے کم از کم تین منتظمین ناگزیر ہیں تاکہ ان کی سلامتی یقینی بنائی جا سکے۔

نئے فیصلوں کے تحت فضائی سفر کرنے والے حجاج کے ساتھ رہنماؤں کی رفاقت بھی ختم کر دی گئی ہے اور زمینی بسوں میں ان کی تعداد کم کر دی گئی ہے۔ اس کے ساتھ الیکٹرانک رہنمائی اور گوگل نقشوں پر انحصار کیا جا رہا ہے جسے کمپنیاں مقدس مقامات میں انٹرنیٹ کی کمزوری اور شدید رش کے باعث غیر عملی قرار دیتی ہیں۔

اسی تناظر میں طبی مشن کو سرکاری گرانٹ سے نکال کر ڈاکٹروں کی ذاتی اخراجات پر مبنی شرکت میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔ کمپنیوں کے مطابق اس سے طبی خدمات کے معیار میں نمایاں کمی کا خدشہ ہے جو خصوصاً دائمی بیماریوں میں مبتلا حجاج کی سلامتی کے لیے سنگین خطرہ بن سکتی ہے۔

اسی طرح ہوٹلوں کی بکنگ میں تاخیر کے باعث مسابقتی مواقع ضائع ہو چکے ہیں جس کے نتیجے میں کمپنیوں کو کم معیار یا دور دراز رہائش گاہوں کا سہارا لینا پڑ سکتا ہے۔ اس کے ساتھ یہ انتباہ بھی سامنے آیا ہے کہ مقررہ اوقات کی پابندی نہ ہونے کی صورت میں سعودی حکام فلسطینی حجاج کی شرکت منسوخ کر سکتے ہیں۔

حکومت کا مؤقف ہے کہ ان اقدامات کا مقصد حجاج پر مالی بوجھ کم کرنا ہے جبکہ کمپنیاں اس بات پر زور دیتی ہیں کہ اخراجات میں کمی خدمات کو کم از کم حد سے بھی نیچے لانے کی قیمت پر نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتظامی انتشار ایک روحانی سفر کو دوہری اذیت میں بدل سکتا ہے جس کی قیمت سب سے زیادہ کمزور حجاج کو چکانا پڑے گی۔

Tags: GovernmentCommitteeHajj2026HajjManagementHajjOperationsMiddleEastNewsPalestinianHajjCompaniesPalestinianPilgrimsPilgrimageCrisisReligiousTravelSaudiArabia
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.