• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
ہفتہ 28 مارچ 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

لبنان پر صیہونی وحشیانہ بمباری

بمباری، تباہی اور بے گھری کے باوجود لبنانی عوام اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں اور فلسطینی عوام کے حق میں اپنی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔

ہفتہ 28-03-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, مقالا جات
0
لبنان پر صیہونی وحشیانہ بمباری
0
SHARES
0
VIEWS

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل
فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ)لبنان غرب ایشیائی ممالک کا ایک ایسا ملک ہے جہاں سنہ 1948 میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے قیام کے بعد مسلسل حالات خراب کئے گئے۔ یعنی غاصب اسرائیل کی جانب سے گریٹر اسرائیل کے منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کےلئے پہلی مرتبہ لبنان میں باقاعدہ سنہ 1978 میں فوجی قبضہ کیا گیا جو لبنانی جوانوں کی طویل مزاحمت کے نتیجہ میں آخر کار سنہ 2000 میں اختتام پذیر ہوا۔ لیکن اسرائیل کی سازشوں اور منفی ہتھکنڈوں کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہا۔ اس کام کو انجام دینے کے لئے امریکہ نے بھی سنہ 2001 سے باقاعدہ گریٹر اسرائیل کو ایک نیا نام دیا اور کہا کہ نیا مشرق وسطیٰ ، اس مںصوبہ کی تکمیل کے لئے انہوںنے جہاں پہلے نائن الیون جیسے فالس فلیگ آپریشن کا الزام افغانستان پر لگا کر امریکی فوج کو افغانستان میں تعینات کیا وہاں ساتھ ساتھ عراق میں بڑی پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کا جھوٹا پراپیگنڈا کر کے عرا ق میں بھی امریکی فوج کو تعینات کر دیا گیا۔ بعد ازاں لبنان پر سنہ 2006 میں باقاعدہ جنگ مسلط کی اور اعلان کیا گیا کہ حزب اللہ کو ختم کریں گے اور اس جنگ کے پیٹ سے ایک نیا مشرق وسطیٰ پیداکریں گے لیکن یہاں ایک مرتبہ پھر وہ ناکام ہوئے۔ بہر حال یہ سلسلہ جنگوں اور دہشتگرد گروہوں کی مدد سے جاری ہی رہا ہے اور آخری کوشش داعش کی مدد سے شام اور عراق میں کی گئی تھی جس کا نشانہ لبنان بھی رہا ۔
امریکہ اور اسرائیل ان تمام تر کوششوں میں ناکام ہونے کے بعد اب باقاعدہ فلسطین ، لبنان اور ایرا ن پر براہ راست حملہ آور ہیں اور گریٹر اسرائیل یا پھر نیا مشرق وسطیٰ بنانے کے لئے ہر قسم کا جارحانہ اقدام اٹھایا جا رہاہے۔
لبنان جو طوفان اقصیٰ کے بعد یعنی اکتوبر 2023 کے بعد مسلسل ڈیڑھ سال اسرائیل کے خلاف جنگ میں وارد رہا اور لبنان کے عوام اور حزب اللہ و حماس کے جوانوں نے بڑی قربانیاں دی ہیں۔ اس جنگ میں حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ بھی شہید ہوئے اور ان کے متعدد ساتھی اور کمانڈرز بھی شہید ہوئے۔ تاہم گذشتہ 15ماہ کے لئے جنگ بندی کا معاہد ہ رہا تھا لیکن اسرائیل نے اس جنگ بندی کے معاہدے کا خیال نہیں رکھا اور مسلسل گذشتہ 15 ماہ میں لبنان پر بمباری جاری رکھی، حزب اللہ کے اہم افراد کی ٹارگٹ کلنگ بھی جاری رکھی گئی ۔لیکن اس کے باوجود جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر حملہ کیا اور سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کو شہید کیا تو حزب اللہ از سر نو میدان میں اتر آئی ہے اور اب مسلسل گھمسان کی جنگ جاری ہے۔
اس وقت لبنان امریکی ایماء پر اسرائیل کی جانب سے ایک بار پھر جنگ، تباہی اور انسانی المیوں کی لپیٹ میں ہے۔ غاصب صیہونی ریاست کی جانب سے لبنان خصوصاً جنوبی لبنان پر جاری وحشیانہ بمباری نے ایک نئے انسانی بحران کو جنم دے دیا ہے۔ گھروں، بستیوں اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں خاندان اپنے گھروں سے بے دخل ہو کر لبنان کے دوسرے علاقوں میں پناہ لینے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ جنوبی لبنان کے کئی علاقے عملاً خالی ہو چکے ہیں اور لوگ اپنے بچوں اور بزرگوں کو لے کر بے یقینی کی حالت میں نقل مکانی کر رہے ہیں۔غاصب صیہونی فوج کے وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں نہ صرف گھروں کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا گیا ہے بلکہ اسکول، اسپتال اور بنیادی سہولیات بھی متاثر ہو رہی ہیں۔ معصوم شہریوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور خوف و ہراس کی فضا پورے خطے پر چھائی ہوئی ہے۔
یاد رہے کہ لبنان کے عوام سنہ 1978 سے مسلسل غاصب صیہونی ریاست اسرائیل اور امریکہ کے جارحانہ عزائم کا مقابلہ کرتے آئے ہیں او ر آج بھی جب ایکمرتبہ پھر جنگ مسلط کی گئی ہے تو لبنان کی عوام نے زبردست استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔تاہم اس تمام تر ظلم و جبر کے باوجود لبنان کے عوام کے حوصلے پست نہیں ہوئے۔ جنوبی لبنان سے بے گھر ہونے والے لوگ اپنی مشکلات اور مصائب کے باوجود فلسطین کی حمایت میں بدستور پیش پیش ہیں۔ یہ حقیقت اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ فلسطین کا مسئلہ محض ایک جغرافیائی تنازعہ نہیں بلکہ ایک نظریاتی اور انسانی مسئلہ ہے جس کے ساتھ پورے خطے کے عوام جذباتی اور اخلاقی وابستگی رکھتے ہیں۔یقینا اس بات میں کوئی شک و شبہ موجود نہیں ہے کہ آج تک لبنان کے عوام نے جو کچھ قربانیاں دی ہیں وہ سب فلسطین کاز کی حمایت کے لئے دی ہیں۔ اسی طرح آج ایران میں بھی جو جنگمسلط ہے اس کا مرکز و محور بھی ایران اور ایران کی عوام کی جانب سے فلسطین کاز کی حمایت ہےجس میں تمام تر مشکلات اور جنگ کے باوجود کسی قسم کی کوئی کمی نہیں آرہی ہےبلکہ لوگوں کا جذبہ مزید بیدا ہو رہاہے اور فلسطین کاز کی حمایت میں مزید اضافہ ہو رہاہے۔
لبنان کی سرزمین نے ہمیشہ مزاحمت، قربانی اور استقامت کی داستانیں رقم کی ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی صیہونی جارحیت نے لبنان کو نشانہ بنایا، وہاں کے عوام نے غیر معمولی شجاعت اور حوصلے کا مظاہرہ کیا۔ آج بھی یہی منظر دیکھنے کو مل رہا ہے۔ بمباری، تباہی اور بے گھری کے باوجود لبنانی عوام اپنے اصولی موقف پر قائم ہیں اور فلسطینی عوام کے حق میں اپنی حمایت جاری رکھے ہوئے ہیں۔گذشتہ دنوں مجھے لبنان سے میرے بہن بھائیوںنے پیغامات ارسال کئے ہیں جن میں لکھا ہوا تھا کہ لبنان کو بھی غزہ بنا دیا گیا ہے۔ یعنی لبنان کھنڈر بن چکا ہے، لبنان میں غذائی قلت ہے، لبنان کے اسکول اور اسپتال تباہ کئے گئے ہیں، لبنان میں لوگ بے گھر ہیں، ان بے گھر افراد کی تعداد ایک ملین سے زیاد ہ ہے۔ جو کچھ غزہ میں ہوا ہے وہ سب آج لبنان میں بھی ہو رہاہے۔لبنان کے ان بہن بھائیوں کے موبائل فون پیغامات میںجہاں اس صورتحال کو بیان کیا گیا ہے وہاں ساتھ ساتھ اس عزم کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ ہم اس تمام تر صورتحال کے باوجود فلسطین کا زکی حمایت سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ لبنانی عوام کے یہ پیغامات اس بات کی عکاسی کر رہے ہیں کہ لبنان اور فلسطین کے عوام کی یہ مشترکہ مزاحمت پوری دنیا کے لیے ایک مثال ہے کہ کس طرح کمزور سمجھے جانے والے لوگ بھی طاقتور قوتوں کے سامنے ڈٹ کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔
بدقسمتی سے اس تمام صورتحال میں عالمی برادری کا کردار انتہائی مایوس کن ہے۔ دنیا کے بڑے ممالک اور بین الاقوامی ادارے اس کھلی جارحیت پر خاموش دکھائی دیتے ہیں۔ انسانی حقوق کی بات کرنے والی تنظیمیں اور عالمی طاقتیں اس وقت عملی طور پر بے حس اور غیر مؤثر نظر آتی ہیں۔ اگر یہی واقعات کسی اور خطے میں پیش آتے تو شاید عالمی میڈیا اور عالمی سیاست کا ردعمل بالکل مختلف ہوتا۔یہ دوہرا معیار عالمی نظام کی اخلاقی کمزوری کو بے نقاب کرتا ہے۔ جب ظلم کے خلاف آواز اٹھانے کے بجائے خاموشی اختیار کی جائے تو یہ خاموشی خود ظلم کے تسلسل کا سبب بن جاتی ہے۔ لبنان اور فلسطین سمیت ایران کے عوام آج اسی عالمی بے حسی کا سامنا کر رہے ہیں۔
خلاصہ یہ ہے کہ لبنان کے عوام کی قربانیاں، ان کی استقامت اور فلسطین کے ساتھ ان کی غیر متزلزل وابستگی اس بات کا ثبوت ہیں کہ ظلم کی رات چاہے کتنی ہی طویل کیوں نہ ہو، مزاحمت کی شمع اسے بالآخر روشنی میں بدلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تاریخ ہمیشہ ان لوگوں کو یاد رکھتی ہے جو حق اور انصاف کے لیے کھڑے ہوتے ہیں، اور لبنان کے عوام آج اسی تاریخ کو رقم کر رہے ہیں۔لبنان کے بہادر اور غیرت مند عوام اور حزب اللہ ایک نئی تاریخ رقم کر رہےہیں جو تا قیامت آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ بنے گی۔

Tags: #HezbollahAirstrikesBombingCivilian CasualtiesIsraeli aggressionIsraeli AttacksLebanonMiddle East Conflictregional conflictwar on Lebanon
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.