تل ابیب – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل میں اپوزیشن لیڈر یائیر لبید نے اعلان کیا ہے کہ وہ پیر کے روز اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) میں ایک ایسا مسودہ قانون پیش کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں جس کے تحت قطر کو قابض اسرائیل کے لیے دشمن ریاست قرار دیا جائے گا۔ اس قانون کی منظوری کی صورت میں قطر پر ان تمام اسرائیلی قوانین اور ضوابط کا اطلاق ہوگا جو اس درجہ بندی میں شامل ریاستوں کے لیے مخصوص ہیں۔
گذشتہ اتوار کی شام سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی تجویز کے ساتھ جاری کردہ ایک پوسٹ میں یائیر لبید نے وضاحت کی کہ اس قانون کا مقصد قطر کو ان ممالک کی فہرست میں شامل کرنا ہے جنہیں قابض اسرائیل پہلے ہی دشمن قرار دے چکا ہے، جیسے ایران، لبنان، شام، یمن اور عراق وغیرہ۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ اس تعریف سے وابستہ تمام قانونی دفعات کا اطلاق قطر پر بھی کیا جائے۔
اسرائیلی تعزیرات کی دفعہ 91 کے مطابق دشمن سے مراد وہ تمام فریق ہیں جو قابض اسرائیل کے ساتھ حالت جنگ میں ہوں یا برسرِ پیکار ہوں، خواہ اس جنگ کا باضابطہ اعلان کیا گیا ہو یا نہیں، اور خواہ عسکری کارروائیاں جاری ہوں یا معطل ہوں۔ اگرچہ دشمن ریاست کے تصور کی کوئی جامع اور متعین تعریف موجود نہیں ہے، تاہم یہ اصطلاح قانونی اور سکیورٹی تناظر میں ان ممالک کے لیے استعمال کی جاتی ہے جو قابض اسرائیل کے ساتھ سیاسی، عسکری یا نظریاتی طور پر دشمنی کی حالت میں ہوں۔
دشمن ریاست کی اصطلاح متعدد اسرائیلی قوانین میں ملتی ہے، جن میں سب سے نمایاں برطانوی استبداد کے دور کا 1939ء کا ٹریڈ ود دی اینیمی آرڈر ہے، جو آج بھی نافذ العمل ہے۔ یہ قانون دشمن قرار دی گئی ریاستوں کے ساتھ تجارتی یا مالی تعلقات قائم کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے اور اسرائیلی شہریوں کو ان کے ساتھ کسی بھی قسم کے لین دین سے روکتا ہے۔
اسی طرح سنہ 1977 کے تعزیری قانون کے تحت دشمن ریاست کی مدد کرنے یا اس کے ساتھ ممنوعہ تعلقات رکھنے والوں کے لیے سزائیں مقرر ہیں، جبکہ سنہ 1952 کے شہریت کے قانون کے تحت دشمن ریاستوں کے ساتھ تعاون ثابت ہونے پر شہریت کی منسوخی کی گنجائش موجود ہے۔ اس کے علاوہ سنہ 1954 کا انسدادِ دراندازی قانون اور ہنگامی حالات کے ضوابط حکومت اور سکیورٹی اداروں کو اس حوالے سے وسیع اختیارات فراہم کرتے ہیں۔
یائیر لبید نے اس اشتعال انگیز مسودہ قانون کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ریاستِ قطر برسوں سے منظم اور مسلسل بنیادوں پر قابض اسرائیل کے سکیورٹی اور سیاسی مفادات کے منافی کام کر رہی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ قطر ان تنظیموں کی حمایت اور مالی معاونت کر رہا ہے جو قابض اسرائیل کے خلاف برسرِ پیکار ہیں، جن میں سرِ فہرست حماس ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے بے بنیاد دعویٰ کیا کہ قابض اسرائیل اپنی سکیورٹی کے خطرناک ترین مرحلے سے گزر رہا ہے اور الزام لگایا کہ قطر نے بنجمن نیتن یاھو کے دفتر کے اندر سے ایجنٹ بھرتی کیے، تاہم انہوں نے ان الزامات کا کوئی عوامی ثبوت فراہم نہیں کیا۔ انہوں نے اس بات کی جانب بھی اشارہ کیا کہ اگر یہ قانون منظور ہو گیا تو امریکہ کے کانگریس میں ریپبلکن اور ڈیموکریٹک پارٹیوں کے تعاون سے اسی نوعیت کی قانون سازی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
یائیر لبید کی یہ حرکت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں سیاسی اور سکیورٹی کشیدگی عروج پر ہے اور قابض اسرائیل کے اندر قطر کے علاقائی کردار، خاص طور پر مصالحتی کوششوں، غزہ کی صورتحال اور قیدیوں کے معاملے پر بحث شدت اختیار کر چکی ہے۔