• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
پیر 30 مارچ 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

بیت المقدس: شہری اسرائیلی جبر کے باعث اپنے گھروں کو خود مسمار کرنے پر مجبور

بیت المقدس کے مکین قابض اسرائیل کی پالیسیوں کے باعث اپنے گھروں کو خود مسمار کرنے پر مجبور ہیں۔

پیر 30-03-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, فلسطین
0
بیت المقدس: شہری اسرائیلی جبر کے باعث اپنے گھروں کو خود مسمار کرنے پر مجبور
0
SHARES
0
VIEWS

مقبوجہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی حکام نے مقبوضہ بیت المقدس کے جنوب مشرق میں واقع گاؤں ام طوبا سے تعلق رکھنے والے مقدسی شہری عطیہ ابو طیر کو مجبور کر دیا کہ وہ بغیر کسی لائسنس کے تعمیر کے بہانے اپنے گھر کا ایک حصہ خود مسمار کر دے۔ یہ کارروائی شہر میں فلسطینی وجود کو نشانہ بنانے والی اس مسلسل پالیسی کا حصہ ہے جس کے تحت فلسطینیوں کی نسل کشی اور انہیں ان کی زمین سے بے دخل کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ القدس گورنری نے اطلاع دی ہے کہ ابو طیر کو اپنے گھر کا تقریباً 30 مربع میٹر پر محیط حصہ خود مسمار کرنے کی اس اذیت ناک کارروائی پر مجبور کیا گیا تاکہ قابض اسرائیل کی مشینری کے ذریعے مسماری کی صورت میں عائد کیے جانے والے بھاری مالی جرمانوں سے بچا جا سکے۔

گورنری نے واضح کیا کہ یہ مکان سنہ 2014ء سے قائم ہے اور پانچ افراد پر مشتمل خاندان کا واحد ٹھکانہ ہے، جبکہ مسماری کا یہ ظالمانہ فیصلہ القدس کے شہریوں کے پہلے سے مشکل حالاتِ زندگی میں اس خاندان کی تکالیف کو مزید سنگین بنا دے گا۔ قابض اسرائیلی حکام فلسطینی محلوں بالخصوص مشرقی بیت المقدس کے علاقوں میں بغیر لائسنس تعمیرات کا بہانہ بنا کر گھروں کی مسماری کی سفاکیت جاری رکھے ہوئے ہیں، حالانکہ فلسطینیوں کے لیے تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنے پر انتہائی سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔

بیت المقدس کے باسیوں کو قابض بلدیہ کی جانب سے نافذ کردہ پیچیدہ طریقہ کار اور کمر توڑ اخراجات کے نتیجے میں تعمیراتی اجازت نامے حاصل کرنے میں شدید مشکلات کا سامنا ہے، جس کی وجہ سے بہت سے فلسطینی اپنی رہائشی ضروریات پوری کرنے کے لیے بغیر اجازت تعمیر کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اسی تناظر میں قابض اسرائیلی حکام متعدد شہریوں کو اس دھمکی کے ذریعے اپنا گھر خود مسمار کرنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اگر اسرائیلی بلڈوزروں نے مسماری کی تو انہیں بھاری جرمانے اور مسماری کے اخراجات بھی ادا کرنے ہوں گے۔

القدس گورنری کے اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ ماہ فروری کے دوران قابض حکام نے شہر میں 49 مسماریوں اور کھدائی کی کارروائیوں کو انجام دیا، جن میں سے 15 کارروائیاں جبری طور پر خود مسمار کرنے کی تھیں اور 27 مسماریاں قابض اسرائیل کی مشینری کے ذریعے کی گئیں، جبکہ اس کے علاوہ اراضی کی کھدائی کی سات کارروائیاں بھی شامل ہیں۔ اسی طرح قابض اسرائیلی حکام نے 143 نوٹس جاری کیے جن میں 125 مسماری کے فیصلے، 16 بے دخلی کے احکامات اور 2 قبضے کے فیصلے شامل تھے، جن کا مرکز عناتا، سلوان، العیزریہ اور ابو دیس کے علاقے رہے۔ یہ اقدامات اس وسیع تر صہیونی پالیسی کا حصہ ہیں جس کا مقصد القدس میں فلسطینیوں پر عرصہ حیات تنگ کرنا اور ان کے گھروں کو نشانہ بنا کر ان کی آبادیاتی موجودگی کو کم کرنا ہے تاکہ شہر پر جبری طور پر اپنا نقشہ مسلط کیا جا سکے۔

Tags: East Jerusalemhome demolitionsHuman Rights ViolationsIsraeli apartheidIsraeli oppressionIsraeli SettlementsjerusalemPalestinian DisplacementPalestinian FamiliesWest Bank
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.