تل ابیب – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس سے تعلق رکھنے والے اسرائیلی کنیسٹ رکن جلعاد کاریف نے اسرائیلی سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی ہے جس میں فلسطینی اسیران کو سزائے موت دینے کے اس قانون کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے جسے گذشتہ ہفتے کنیسٹ نے منظور کیا تھا۔
جلعاد کاریف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اپنی ایک پوسٹ میں وضاحت کی کہ یہ درخواست زولات انسٹی ٹیوٹ اور آوازِ ربی برائے انسانی حقوق نامی تنظیم کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔ انہوں نے اس قانون کو نسل پرستانہ اور انتہا پسندانہ قرار دیتے ہوئے اسے ایک عوامی اور قوم پرست انتخابی مہم کا حصہ قرار دیا ہے۔
انہوں نے اشارہ کیا کہ یہ قانون حکمراں اتحاد میں شامل جماعتوں کے اندرونی بدلاؤ کی عکاسی کرتا ہے، جس میں انہوں نے ایتمار بن گویر کی قیادت میں جیوئش پاور پارٹی، بنجمن نیتن یاھو کی سربراہی میں لیکوڈ پارٹی اور آریہ درعی کی قیادت میں شاس پارٹی کا خاص طور پر ذکر کیا۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ یہ قانون سازی فوج کے قائدین اور محکمہ جیل خانہ جات کو خطرے میں ڈالنے کے ساتھ ساتھ بین الاقوامی سطح پر قابض اسرائیل کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچانے کا باعث بنے گی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ کنیسٹ اور حکومت کے قانونی مشیر اس قانون کی مکمل یا جزوی منسوخی کی حمایت کریں گے۔
واضح رہے کہ سپریم کورٹ اسرائیل کا سب سے اعلیٰ عدالتی ادارہ ہے جو ان قوانین کو کالعدم قرار دینے کا اختیار رکھتا ہے جو آئینی حیثیت رکھنے والے بنیادی قوانین سے متصادم ہوں۔
اسی تناظر میں عدالہ نامی انسانی حقوق کے مرکز نے کنیسٹ کے عرب ارکان کے تعاون سے ایک ایسی ہی درخواست دائر کی ہے، جبکہ اسرائیل میں شہری حقوق کی ایسوسی ایشن نے بھی قانون کی منسوخی کے لیے ایک الگ درخواست دی ہے، جس پر عدالت نے حکومت کو جواب دہی کا پابند کر دیا ہے۔
عدالتی طریقہ کار کے مطابق جب تک سپریم کورٹ ان اپیلوں پر غور کر رہی ہے، اس قانون کا عملی اطلاق ممکن نہیں ہے۔
کنیسٹ نے 30 مارچ سنہ 2026ء کو دائیں بازو کی جماعتوں کی حمایت سے یہ قانون 48 کے مقابلے میں 62 ووٹوں کی اکثریت سے منظور کیا تھا جبکہ ایک رکن نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا تھا۔
انسانی حقوق کے اداروں کے تخمینوں کے مطابق اس قانون کا ہدف وہ فلسطینی ہیں جن پر اسرائیلیوں کے قتل کا الزام ہے اور یہ عمر قید کی سزا کاٹنے والے تقریباً 117 فلسطینی اسیران پر اثر انداز ہو سکتا ہے، تاہم عدالہ سینٹر کے ڈائریکٹر ایڈووکیٹ حسن جبارین نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ اس کا اطلاق ماضی کے واقعات پر نہیں ہوگا۔
قابض صہیونی عقوبت خانوں میں اس وقت 9500 سے زائد فلسطینی قید ہیں جن میں سینکڑوں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں، جبکہ انسانی حقوق کی تنظیموں کی جانب سے ان پر تشدد اور طبی غفلت جیسے سنگین الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔
یہ ظالمانہ قانون ان فلسطینیوں کے لیے پھانسی کی سزا تجویز کرتا ہے جنہیں کسی اسرائیلی کے قتل کا مجرم قرار دیا جائے اور اس فعل کو دہشت گردی یا ریاستِ اسرائیل کے وجود سے انکار کا شاخسانہ قرار دیا جائے، جبکہ دوسری طرف فلسطینیوں کو قتل کرنے والے اسرائیلیوں پر اس قانون کا اطلاق نہیں ہوتا۔