بیروت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) جنوبی لبنان میں دریائے لیطانی پر واقع القاسمیہ پل کو نشانہ بنا کر کیے گئے ایک تازہ اسرائیلی فضائی حملے میں دو صحافی شدید زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ صحافی اس تباہی کی کوریج کر رہے تھے جو گذشتہ بدھ کو اسی پل پر کیے گئے ایک اور اسرائیلی حملے کے نتیجے میں ہوئی تھی۔
اناطولیہ نیوز ایجنسی کے مطابق عینی شاہدین نے بتایا کہ قابض اسرائیل کے ایک ڈرون نے پہلے ان صحافیوں کے قریب ایک "انتباہی میزائل” داغا تاکہ انہیں خوفزدہ کیا جا سکے کیونکہ وہ دریائے لیطانی پر واقع القاسمیہ پل کی تباہی کی رپورٹنگ کر رہے تھے جسے گذشتہ روز غاصب دشمن نے نشانہ بنایا تھا۔
عینی شاہدین نے مزید تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ جب ایک نامہ نگار پل کے قریب سے براہِ راست نشریات (لائیو بیپ) دے رہا تھا تو اسرائیلی طیاروں نے پل پر دوبارہ براہِ راست دوسرا حملہ کر دیا جس کے نتیجے میں نامہ نگار اور اس کا کیمرہ مین زخمی ہو گئے اور انہیں فوری طور پر طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔
لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے مطابق "روسیا الیوم” چینل کے نامہ نگار سٹیف سوینی نے تصدیق کی ہے کہ وہ اور ان کا فوٹو گرافر جنوبی لبنان میں اسرائیلی فضائی حملے کے نتیجے میں زخمی ہوئے ہیں۔
واضح رہے کہ جمعرات کی صبح سے ہی قابض اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے 19 قصبوں اور علاقوں کو فضائی اور توپ خانے سے نشانہ بنایا ہے جو کہ سنہ 2026ء کے 2 مارچ سے اس عرب ملک کے خلاف جاری مسلسل جارحیت کا حصہ ہے۔
لبنانی حکام کے مطابق اس تاریخ سے اب تک لبنان پر جاری اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں 968 شہری شہید اور 2432 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ 49 ہزار 328 سے زائد افراد بے گھر ہو کر دربدری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
یاد رہے کہ 2 مارچ کو حزب اللہ نے شمالی مقبوضہ فلسطین میں ایک فوجی مقام پر حملہ کیا تھا جو کہ لبنان پر دشمن کی مسلسل جارحیت اور نومبر سنہ 2024ء کے سیز فائر معاہدے کی خلاف ورزیوں سمیت ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی شہادت کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔
اس سے قبل بھی قابض اسرائیل اکتوبر سنہ 2023ء سے نومبر سنہ 2024ء کے درمیان لبنان پر جارحیت کے دوران 4 ہزار سے زائد افراد کو شہید اور تقریباً 17 ہزار کو زخمی کر چکا ہے۔
اسی جارحیت کے دوران غاصب اسرائیل نے لبنان کی پانچ پہاڑی چوٹیوں پر بھی قبضہ کر لیا تھا جو کہ جنوبی لبنان کے ان علاقوں کے علاوہ ہیں جہاں وہ دہائیوں سے قابض ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اس نے فلسطین اور شام کے علاقوں پر بھی اپنا ناجائز قبضہ برقرار رکھا ہوا ہے۔