مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) برطانوی اخبار "دی گارڈین” کی ایک تازہ تحقیقاتی رپورٹ نے انکشاف کیا ہے کہ قابض اسرائیلی فوج اب مقبوضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف حملوں اور جبری بے دخلی کی کارروائیوں میں تیزی لانے کے لیے مسلح آباد کاروں کے دستوں کو باقاعدہ تحفظ فراہم کر رہی ہے۔
اخبار نے ریزرو فوجیوں اور اسرائیلی کارکنوں کے حوالے سے بتایا ہے کہ "ہاگمار” کے نام سے جانی جانے والی علاقائی دفاعی اکائیوں نے سنہ 2023ء میں اکتوبر کے مہینے سے اپنی سرگرمیوں میں شدید اضافہ کر دیا ہے۔ ان اکائیوں نے باقاعدہ فوج کی غزہ منتقلی کا بھرپور فائدہ اٹھایا ہے۔
تحقیقات کے مطابق ان اکائیوں میں ہزاروں آباد کار شامل ہیں جنہیں باقاعدہ اسلحہ اور وسیع سکیورٹی اختیارات دے کر بستیوں اور ان کے گرد و نواح میں تعینات کیا گیا ہے۔ اگرچہ ریاست انہیں باضابطہ طور پر فنڈز فراہم کرتی ہے لیکن طاقت کے استعمال پر ان کی نگرانی نہ ہونے کے برابر ہے۔
مغربی کنارے میں خدمات انجام دینے والے ریزرو فوجیوں کا کہنا ہے کہ "ہاگمار” کے کارندے بڑی حد تک خود مختار ہو کر کام کرتے ہیں اور اکثر تصادم والے مقامات پر باقاعدہ فوج سے بھی پہلے پہنچ جاتے ہیں۔ رپورٹ میں ان کارندوں کے فلسطینیوں کے گھروں اور زرعی زمینوں کی توڑ پھوڑ، مویشیوں کی چوری، شہریوں کو ڈرانے دھمکانے اور اندھا دھند اسلحے کے استعمال میں ملوث ہونے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
گارڈین نے ایک ریزرو فوجی کا بیان نقل کیا ہے جس کے مطابق یہ یونٹس درحقیقت مسلح ملیشیا بن چکے ہیں جو مکمل آزادی کے ساتھ متحرک ہیں، جبکہ اعلیٰ قیادت ان کی خلاف ورزیوں اور فیلڈ آرڈرز کی نافرمانی سے جان بوجھ کر چشم پوشی کر رہی ہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان اکائیوں کے ارکان انتہائی سنگین واقعات میں ملوث ہیں، جن میں ایک معمر فلسطینی کا قتل اور ایک دوسرے شہری کو گاڑی تلے کچلنا شامل ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم "بریکنگ دی سائلنس” کا کہنا ہے کہ ہاگمار نظام نے آباد کاروں کے متشدد نظریات کو فوج کے اندر ضم کر دیا ہے اور انہیں مکمل فوجی اختیارات سونپ دیے ہیں۔
دوسری جانب قابض اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ چند محدود واقعات میں حدود سے تجاوز کیا گیا جس پر بعض افراد کو معطل کر کے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں، تاہم انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ جوابدہی کا عمل اب بھی انتہائی محدود ہے۔
اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق جو اس رپورٹ میں شامل کیے گئے ہیں آباد کاروں کے ان حملوں کے نتیجے میں اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک 29 فلسطینی بستیاں جبری طور پر خالی کرائی جا چکی ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں سنہ 2022ء اور سنہ 2023ء کے ابتدائی نو مہینوں میں صرف چار بستیاں بے دخل ہوئی تھیں۔
دی گارڈین نے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ 7 اکتوبر کے بعد مغربی کنارے کے ڈھانچے میں ایک بڑی تبدیلی آئی ہے، جہاں اب فوج اور آباد کار ایک ہی نظام کے طور پر کام کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد اور جبری بے دخلی کی کارروائیوں میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔