بیروت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے آج بدھ کے روز لبنان کے مختلف علاقوں پر وحشیانہ فضائی حملوں کا نیا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ یہ حملے بظاہر قابض حکومت کے وزیراعظم کے اس اعلان کی توثیق معلوم ہوتے ہیں جس میں اس نے تہران کے ساتھ ہونے والے عارضی سیز فائر کے معاہدے میں لبنان کو شامل کرنے سے صاف انکار کر دیا ہے۔
لبنان کی نیشنل نیوز ایجنسی کے مطابق آج صبح ایک قابض اسرائیلی ڈرون نے راس العین السماعیہ کے علاقے میں ایک رابڈ گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں متعدد افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔
قابض اسرائیل کی فضائیہ نے علی الصبح دبین نامی قصبے اور جزین کے علاقے میں ریحان پر بھی بمباری کی جبکہ توپ خانے سے الحنیہ اور المنصوری کے علاقوں کو نشانہ بنایا گیا۔
قابض اسرائیلی طیاروں نے الصبح جل البحر کے علاقے میں حیرام ہسپتال کے قریب ایک عمارت پر سفاکانہ حملہ کیا جس کے نتیجے میں 4 معصوم شہری جام شہادت نوش کر گئے۔
صہیونی دشمن نے قصبہ شقرا میں اسلامی ہیلتھ اتھارٹی کے طبی عملے کی ایک چوکی کو بھی نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں کئی طبی کارکن زخمی ہوئے۔ اسرائیلی غارت گری کا نشانہ بننے والے دیگر علاقوں میں شقرا، حداثا، رب ثلاثین، العباسیہ، کفرا اور الجمیجمہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ قصبہ قانا میں ایک اسرائیلی ڈرون نے موٹر سائیکل کو نشانہ بنایا جس سے ایک شخص زخمی ہوا۔
دوسری جانب بنجمن نیتن یاھو نے بدھ کی صبح امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران پر حملے دو ہفتوں کے لیے معطل کرنے کے فیصلے کی حمایت کا اعلان تو کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ اس جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوگا۔ اس کے برعکس تہران اس بات پر بضد ہے کہ جنگ بندی کے کسی بھی معاہدے میں لبنان کو لازمی شامل کیا جائے۔
لبنانی حکام کی رپورٹ کے مطابق لبنان پر قابض اسرائیل کی اس وسیع تر سفاکیت اور جارحیت کے نتیجے میں اب تک 1530 افراد شہید اور 4812 زخمی ہو چکے ہیں جبکہ 10 لاکھ سے زائد لوگ اپنے گھر بار چھوڑ کر نقل مکانی پر مجبور ہوئے ہیں۔