(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی مرکز برائے حقوقِ انسان نے بتایا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کو پانی سے محروم کر کے انہیں بربریت کا شکار بنارہی ہے، جس کا مقصد غزہ میں زندگی کو ناقابلِ رہائش بنانا ہے۔
پینے کے پانی کے عالمی دن کے موقع پر جاری کردہ بیان میں خبردار کیا کہ "یہ غیر معمولی انسانی تباہی غزہ کے بیس لاکھ سے زائد فلسطینیوں کی زندگیوں کے لیے سنگین خطرہ بن چکی ہے جو صیہونی دہشتگردی کے باعث صاف اور محفوظ پانی کے ذرائع سے محروم ہوچکے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ "غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے فلسطینیوں کو پانی کی فراہمی کو روکنے اور انہیں تعطل میں مبتلا کرنے کی یہ پالیسی نسل کشی کا حصہ ہے، جو گزشتہ سات اکتوبر 2023 سے جاری غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے حملوں کی وجہ سے مزید شدت اختیار کر گئی ہے۔” اس حملے کے نتیجے میں غزہ کی پانی کی تنصیبات اور سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
غزہ کے پانی کی فراہمی کا نظام اور اس کے سیوریج کی سہولتیں تباہ ہو چکی ہیں، جبکہ صیہونی دشمن کی جانب سے مرکزی پانی کی پلانٹ کو بجلی کی فراہمی بھی روک دی گئی ہے، جس سے صورتحال مزید سنگین ہوگئی ہے۔ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل نے 9 مارچ 2024 کو غزہ کو بجلی کی فراہمی بند کر دی تھی، جس کا مقصد پانی کی فراہمی کو مزید پیچیدہ بنانا تھا۔
غزہ کے میڈیا آفیسر محمد ثابت نے اس حوالے سے کہا تھا کہ "غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے نومبر 2024 سے غزہ کو محدود توانائی فراہم کی تھی، جس کا مقصد صرف پانی کی پلانٹس کو چلانا تھا، تاہم مارچ میں یہ توانائی بھی بند کر دی گئی ہے۔”
مرکز نے اس صورتحال کو "فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کے تسلسل” کے طور پر بیان کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد غزہ کو ایک ایسی جگہ میں تبدیل کرنا ہے جہاں انسانوں کا زندہ رہنا ممکن نہ ہو، اور فلسطینیوں کو یہاں سے نکالنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
اس بیان میں مزید کہا گیا کہ "غزہ میں وسیع پیمانے پر پانی کی فراہمی کا نظام تباہ ہو چکا ہے، اور مقامی آبادی کو انتہائی آلودہ اور کم مقدار میں پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس وقت ہر فرد کو روزانہ صرف 3 سے 12 لیٹر پانی دستیاب ہے، جو پہلے 86 لیٹر روزانہ تھا۔”
غزہ کی پانی کی خدمات اور سیوریج نظام کی تباہی کے نتیجے میں بیماریاں اور وبائیں پھوٹنے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔ فلسطینی مرکز برائے حقوقِ انسان نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ غزہ کو ماحولیاتی طور پر ایک متاثرہ علاقے کے طور پر تسلیم کرے، اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کو ان جرائم کا ذمہ دار ٹھہرائے۔
مزید برآں، فلسطینی وزارت صحت نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے لے کر اب تک غزہ میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی وحشیانہ حملوں کے نتیجے میں 634 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور 1172 زخمی ہوئے ہیں، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل ہیں۔