رام اللہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی جرنلسٹ یونین نے کہا ہے کہ رمضان المبارک سے قبل اور اس کے دوران شہرِ القدس میں صحافیوں کو نشانہ بنانے کی قابض اسرائیلی کارروائیوں میں تیزی کا مقصد سچائی کو چھپانا اور شہر کے بارے میں میڈیا بیانیے پر اجارہ داری قائم کرنا ہے۔
یونین نے کمیٹی برائے آزادی کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں واضح کیا کہ سنہ 2026ء کے ماہ جنوری اور فروری کے دوران دستاویزی طور پر ریکارڈ کی گئی خلاف ورزیوں میں گرفتاریاں، تفتیش، مسجد اقصیٰ سے جبری بے دخلی، کوریج پر پابندی اور پیشہ ورانہ ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران صحافیوں پر تشدد کے علاوہ القدس کے میڈیا پلیٹ فارمز پر پابندی جیسے ہتھکنڈے شامل ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ قابض اسرائیلی حکام نے میڈیا کوریج کو محدود کرنے کے لیے مسجد اقصیٰ سے بے دخلی کی پالیسی کو تیز کر دیا ہے، جہاں متعدد صحافیوں بشمول محمد الصادق اور محمد ابو سنینہ کی بے دخلی کے احکامات جاری کیے گئے، جبکہ صحافیہ میساء ابو غزہ کو چھ ماہ کے لیے قبلہ اول سے دور کر دیا گیا ہے۔
ان ظالمانہ اقدامات کی زد میں وہ صحافی بھی آئے جنہیں مسجد اقصیٰ کے صحنوں کے اندر سے گرفتار کیا گیا یا تفتیش کا نشانہ بنایا گیا، جن میں ابراہیم السنجلاوی اور احمد جلاجل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 27 فروری کو اجتماعی بے دخلی کے فیصلے صادر کیے گئے تاکہ رمضان کے دوران مسجد کے گردونواح میں میڈیا کی موجودگی کو کم سے کم کیا جا سکے۔
اسی تناظر میں یونین نے فوٹو جرنلسٹ نسرین سالم کی گرفتاری اور ان کی رہائی کے لیے عائد کی گئی سخت شرائط کو بھی قلمبند کیا ہے، جن میں بھاری جرمانے، کثیر ضمانتی رقم، گھر میں نظر بندی (ہاؤس اریسٹ)، سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی اور مسجد اقصیٰ سے بے دخلی شامل ہے۔ اسی طرح صحافیہ نوال حجازی کو شعفاط کیمپ کے قریب سے گرفتار کیا گیا جنہیں بعد ازاں ضمانت پر رہا کیا گیا۔
یونین نے اشارہ کیا کہ صحافیوں کو قلندیہ چیک پوسٹ سمیت متعدد مقامات پر فیلڈ کوریج سے روکا گیا اور کفر عقب میں پیش آنے والے واقعات کی کوریج کے دوران ان پر صوتی بم اور آنسو گیس کے گولے داغے گئے، جبکہ بعض کو اسلحے کے زور پر کوریج کے مقامات چھوڑنے پر مجبور کیا گیا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ قابض اسرائیلی حکام نے دہشت گردی کی حمایت کے بہانے القدس کی پانچ نیوز ویب سائٹس "میدان القدس”، "العاصمہ”، "المعراج”، "قدس پلس” اور "البوصلہ” پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یونین کے مطابق یہ اقدام شہر کے ڈیجیٹل میڈیا کے دائرہ کار کو محدود کرنے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
صحافی یونین نے زور دے کر کہا کہ یہ اقدامات فلسطینی میڈیا کی موجودگی کو ختم کرنے کی ایک منظم پالیسی کی عکاسی کرتے ہیں، بالخصوص رمضان کے دوران مسجد اقصیٰ کے گردونواح میں ہونے والی سفاکیت کو دنیا کی نظروں سے اوجھل رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ یونین نے ان ممارسات کو صحافتی آزادی کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے صحافیوں کے تحفظ کے لیے فوری عالمی مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔