بیروت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) لبنان اور اس کے عوام کے دفاع میں حزب اللہ نے قابض اسرائیلی ٹھکانوں اور فوجی اجتماعات کے خلاف اپنی فوجی کارروائیوں میں شدت پیدا کر دی ہے اور بیک وقت ڈرون طیاروں اور میزائلوں سے سلسلہ وار حملے کرتے ہوئے نشانے پر لیے گئے جغرافیائی دائرہ کار میں غیر معمولی وسعت دی ہے۔
حزب اللہ نے ایک فوجی بیان میں اعلان کیا کہ شام کے وقت 16:30 بجے مقبوضہ شامی گولان میں قائم یوآف چھاؤنی کو خودکش ڈرونز کے اسکواڈرن سے نشانہ بنایا گیا، جبکہ اسی دوران کریات شمونہ بستی میں قابض اسرائیلی فوج کے اجتماع کو بھی اسی طریقے سے نشانہ بنایا گیا۔ مزید برآں مقبوضہ صفد شہر کے شمال میں واقع عین زیتیم بیس پر بھی حملہ آور ڈرونز سے بمباری کی گئی۔
فضائی کارروائیوں کے تسلسل میں حزب اللہ نے اطلاع دی کہ دوپہر 14:00 بجے جنوبی لبنان کے قصبے مروانیہ کے اوپر ایک اسرائیلی ڈرون کو مناسب ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے مار گرایا گیا، جبکہ 16:15 بجے کریات شمونہ میں ایک اور اسرائیلی فوجی اجتماع کو ڈرون اسکواڈرن سے نشانہ بنایا گیا۔
سرحد پر میدانی صورتحال کے حوالے سے حزب اللہ نے بتایا کہ شام 17:30 بجے ایک اسرائیلی فورس پر میزائلوں سے ضربیں لگائی گئیں جس نے طیبہ قصبے کی طرف پیش قدمی کی کوشش کی تھی، اس کے ساتھ ہی عدیسہ قصبے میں تلہ العویضہ پر فوجیوں کے اجتماع پر بھی گولہ باری کی گئی۔ بیان میں یہ بھی بتایا گیا کہ صبح 10:00 بجے شومیرا بستی میں ایک اور فوجی اجتماع کو میزائلوں کی بوچھاڑ سے نشانہ بنایا گیا۔
ایک اور میدانی پیش رفت میں حزب اللہ نے تصدیق کی کہ اس کے مجاہدین نے دوپہر 14:00 بجے الخیام قید خانہ کے گرد و نواح میں قابض اسرائیلی افواج کی پیش قدمی کی کوشش کو ناکام بنا دیا اور مناسب ہتھیاروں سے ان کے ساتھ جھڑپیں کیں۔
دوسری جانب قابض اسرائیل کے سرکاری نشریاتی ادارے نے نقل کیا ہے کہ حزب اللہ نے جنوب کی سمت میزائل داغنے کی اب تک کی سب سے طویل ترین کارروائی کی ہے، جس کا فاصلہ تقریباً 200 کلومیٹر تک رہا اور اس نے غلافِ غزہ کے قصبوں کو نشانہ بنایا، جو کہ تصادم کے دائرہ کار میں اضافے کا واضح اشارہ ہے۔
اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ کریات شمونہ میں گولہ باری کے نتیجے میں براہِ راست ہٹ لگی ہے، جبکہ اسرائیلی ہوم فرنٹ نے عسقلان اور غلافِ غزہ کے علاوہ گولان کی بستیوں، بالائی جلیل کے علاقوں اور تل ابیب کے شمال مشرقی حصوں میں سائرن بجنے کا اعلان کیا، جہاں شہر کے شمال مشرقی مضافات میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔
حزب اللہ کی کارروائیوں میں یہ شدت ان کی نوعیت اور حد میں ایک نمایاں تبدیلی کی عکاسی کرتی ہے، جہاں نشانے اب شمالی سرحدوں سے نکل کر قابض اسرائیل کے اندر وسیع جغرافیائی گہرائی تک پہنچ چکے ہیں، جو کہ مزید تناؤ اور مقابلے کے دائرہ کار میں وسعت کا پیش خیمہ ہے۔