تل ابیب – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے دورہ تل ابیب کے دوران آج جمعرات کے روز غاصب اسرائیل اور بھارت نے مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے 16 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے ہیں۔ دونوں جانب سے اس اقدام کو تعلقات کی سطح بلند کر کے اسے ایک نام نہاد ‘خصوصی تزویراتی شراکت داری’ میں تبدیل کرنے کا نام دیا گیا ہے۔
حالیہ برسوں میں غاصب اسرائیلی، بھارتی اور مغربی میڈیا کی رپورٹس سے یہ بات عیاں ہوتی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان بڑھتے ہوئے روابط محض فنکشنل شراکت داری سے نکل کر ایک ایسے تزویراتی اتحاد میں بدل چکے ہیں جس کے اثرات علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مرتب ہو رہے ہیں۔
اس شراکت داری کا اعلان مقبوضہ بیت المقدس کے ‘کنگ ڈیوڈ ہوٹل’ میں منعقدہ ایک ورکنگ میٹنگ کے بعد کیا گیا جس میں غاصب اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو، وزیر دفاع یسرائیل کاٹز اور وزیر خارجہ جدعون ساعر نے شرکت کی۔ اس ملاقات کا اختتام ایک مشترکہ پریس کانفرنس پر ہوا۔
بنجمن نیتن یاھو نے مودی کے دورے کو متعدد محاذوں پر ‘حیران کن نتائج’ کا حامل قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملاقات مختصر مگر انتہائی ثمر آور اور مؤثر تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریق ٹھوس منصوبوں پر کام کر رہے ہیں جنہیں مستقبل قریب میں بھارت میں ہونے والے ایک مشترکہ حکومتی اجلاس میں حتمی شکل دی جائے گی۔ بنجمن نیتن یاھو کا کہنا تھا کہ دونوں ملکوں کا مستقبل جدت طرازی پر منحصر ہے اور انہوں نے مودی حکومت کی کارکردگی کی تعریف بھی کی۔
دوسری جانب بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے دورے کو دوطرفہ تعلقات میں ایک ‘اہم سنگ میل’ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سکیورٹی، زراعت، پانی، ترقی اور افرادی قوت کے شعبوں میں تعاون میں نمایاں وسعت آئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ دونوں فریق باہمی فائدے کے لیے آزاد تجارتی معاہدے (FTA) کو حتمی شکل دینے کے قریب ہیں اور دفاعی میدان میں ٹیکنالوجی کی منتقلی اور مشترکہ پیداوار کی جانب بڑھ رہے ہیں۔
مودی نے تعلقات کو ‘خصوصی تزویراتی شراکت داری’ تک لے جانے کو ایک فطری اور بصیرت افروز پیش رفت قرار دیا۔ انہوں نے غزہ کی پٹی پر جاری جنگ کے حوالے سے غاصب اسرائیل کے ساتھ مسلسل ہم آہنگی کا اعادہ کیا اور ایک بار پھر نام نہاد ‘دہشت گردی’ کی مذمت کی، جو فلسطینی مزاحمت کے خلاف ان کا مخصوص اور جانبدارانہ اشارہ ہے۔
ان مفاہمتی یادداشتوں میں ثقافت اور زرعی جدت طرازی کے شعبے شامل ہیں، جس کے تحت بھارت میں ایک زرعی تحقیق اور جدت طرازی کا مرکز قائم کیا جائے گا۔ اس میں تربیتی پروگرام، تجربات کا تبادلہ اور تعلیمی تعاون شامل ہوگا۔
اپنے دورے کے دوران مودی نے غاصب اسرائیلی صدر اسحاق ہرتزوگ سے بھی ملاقات کی، جنہوں نے بھارت کو ‘مشرق وسطیٰ کے مستقبل کا اہم ترین حصہ’ قرار دیا۔ مودی نے ہرتزوگ کو بھارت کے سرکاری دورے کی دعوت بھی دی۔
نریندر مودی گذشتہ روز بن گوریون ایئرپورٹ پہنچے تھے جہاں بنجمن نیتن یاھو نے ان کا استقبال کیا۔ بعد ازاں انہوں نے کینسٹ (صہیونی پارلیمنٹ) کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سات اکتوبر سنہ 2023 کے واقعات کے تناظر میں غاصب اسرائیل کے لیے اپنی بھرپور حمایت کا اظہار کیا۔
مودی کینسٹ سے خطاب کرنے والے پہلے بھارتی وزیراعظم ہیں، جبکہ وہ سنہ 2017ء میں غاصب اسرائیل کا سرکاری دورہ کرنے والے پہلے بھارتی سربراہ حکومت بھی تھے۔ ان کا یہ اقدام ان سیاسی روایات کو توڑنے کا باعث بنا تھا جو روایتی طور پر بھارت کی قضیہ فلسطین کے حوالے سے رہی تھیں۔
مختلف تحقیقی مراکز اور اخبارات کی رپورٹس کے مطابق گذشتہ دہائی میں غاصب اسرائیل اور بھارت کے تعلقات میں آنے والی تیزی کا تعلق بھارت میں ہندوتوا قوم پرستی کے عروج اور ایشیائی منڈیوں میں غاصب اسرائیلی دفاعی صنعت کی توسیع سے ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ سائبر سکیورٹی، سرحدی نگرانی اور ڈرون ٹیکنالوجی میں دونوں کے مفادات کا ٹکراؤ بھی اس قربت کی ایک بڑی وجہ ہے۔
اس تناظر میں مودی کا یہ دورہ اور اتنی بڑی تعداد میں معاہدوں پر دستخط غاصب اسرائیل کے بھارت کے لیے ایک کلیدی سکیورٹی پارٹنر بننے کے عمل کی نئی کڑی ہے۔ اس کے بدلے میں تل ابیب کو دنیا کی ایک بڑی ابھرتی ہوئی طاقت میں مضبوط سیاسی اور معاشی گہرائی حاصل ہو رہی ہے، جو فلسطینیوں کی نسل کشی میں مصروف صہیونی ریاست کے لیے عالمی تنہائی سے بچنے کا ایک راستہ ہے۔