بیروت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی افواج نے جمعرات کو علی الصبح بیروت اور جنوبی لبنان پر اپنی سفاکیت اور جارحیت کا دائرہ مزید وسیع کر دیا ہے جس کے جواب میں حزب اللہ نے جنوبی اور شمالی لبنان میں قابض اسرائیلی فوجی ٹھکانوں اور فوجیوں پر میزائلوں اور ڈرون طیاروں سے حملوں کا اعلان کیا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ محاذ آرائی اب ایک وسیع اور پیچیدہ مرحلے میں داخل ہو چکی ہے۔
قابض اسرائیلی فوج نے بیروت میں حزب اللہ کے نام نہاد انفراسٹرکچر کو نشانہ بنانے کے بہانے حملوں کے آغاز کا اعلان کیا اور جنوبی مضافاتی علاقے میں ایک رہائشی اپارٹمنٹ اور حارہ حریک میں ایک عمارت پر غارت گری کی جبکہ اسی علاقے کے جوار میں واقع العمروسیہ پر بھی بمباری کی گئی۔
فلسطینی نصب العین اور پناہ گزینوں کو نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کے تحت قابض اسرائیل نے شمالی لبنان میں واقع بدوی پناہ گزین کیمپ پر بھی حملہ کیا جس سے گنجان آباد سویلین علاقوں کو نشانہ بنائے جانے کے شدید خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
لبنانی خبر رساں ایجنسی کے مطابق بدوی کیمپ پر قابض اسرائیل کے اس حملے میں ’ حماس‘ کے رہنما وسیم العلی اپنی اہلیہ سمیت شہید ہو گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق جمعرات کی رات قابض اسرائیل کے ایک ڈرون نے بدوی کیمپ میں مسجد خلیل الرحمن کے قریب ایک رہائشی عمارت کے اپارٹمنٹ کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہاں آگ بھڑک اٹھی اور وسیم العلی اور ان کی اہلیہ جام شہادت نوش کر گئے جبکہ ان کی ایک بیٹی زخمی ہوئی جسے ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اسی تناظر میں نیشنل نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا کہ قابض اسرائیل کے ڈرون نے بیروت ایئرپورٹ کی طرف جانے والی شاہراہ پر ایک گاڑی کو نشانہ بنایا جس کے چند منٹ بعد اسی مقام پر دوسری گاڑی کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
لبنانی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ بیروت کے جنوبی مضافات میں دو گاڑیوں پر ہونے والے حملوں میں 3 افراد شہید اور 6 زخمی ہوئے۔ ملک کے مشرقی حصے میں واقع بعلبک میں ایک چار منزلہ رہائشی عمارت پر حملے میں 6 افراد شہید اور 15 زخمی ہوئے جبکہ بیروت کے قریب حازمیہ میں ایک ہوٹل کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
اقوام متحدہ نے تصدیق کی ہے کہ گذشتہ پیر سے شروع ہونے والی کشیدگی کی حالیہ لہر کے بعد سے اب تک تقریبا 60 ہزار افراد نقل مکانی کر چکے ہیں۔ لبنانی وزارت صحت کے مطابق حالیہ جارحیت کے آغاز سے اب تک قابض اسرائیل کی غارت گری کے نتیجے میں 72 افراد شہید اور 437 زخمی ہو چکے ہیں جو تیزی سے بگڑتی ہوئی انسانی صورتحال کا پیش خیمہ ہے۔
قابض اسرائیلی فوج کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ اسرائیلی فورسز نے لبنان بھر میں درجنوں مقامات پر حملوں کی ایک وسیع لہر مکمل کر لی ہے۔ فوجی ترجمان ایفی ڈیفرین نے وضاحت کی کہ فوج نے محض 48 گھنٹوں میں 250 سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا جو ان کارروائیوں کی شدت اور جغرافیائی پھیلاؤ کا واضح اشارہ ہے۔
قابض اسرائیل کی فوج نے حزب اللہ کے خلاف جارحانہ معرکے کا اعلان کرتے ہوئے جنوبی لبنان کے وسیع علاقوں کے مکینوں کو فوری طور پر علاقہ خالی کرنے اور دریائے لیطانی کے شمال میں منتقل ہونے کا حکم دیا ہے۔ قابض دشمن نے ان علاقوں کا نقشہ بھی جاری کیا ہے جو لبنان کے کل رقبے کا تقریبا 8 فیصد بنتا ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے ایک لبنانی سکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا کہ حالیہ کارروائیوں کے دوران قابض اسرائیلی افواج کم از کم 9 جنوبی قصبوں میں داخل ہو چکی ہیں جبکہ لبنانی فوج نے سرحد کے قریبی مقامات سے اپنی کچھ فورسز کو پیچھے ہٹا کر دوبارہ تعینات کر دیا ہے۔
دوسری جانب لبنان سے ڈرون طیاروں کے داخلے کے بعد بالائی جلیل کے متعدد قصبوں بشمول مرغلیوت اور منارہ میں خطرے کے سائرن بج اٹھے۔ اسرائیلی میڈیا نے رپورٹ کیا کہ لبنان سے اسرائیل کی طرف 8 میزائل داغے گئے جن میں سے بعض کے وقت سائرن نہیں بج سکے جبکہ مقبوضہ شام کے گولان اور کریات شمونہ شہر میں سائرن بجنے کی آوازیں سنی گئیں۔
حزب اللہ نے خیام شہر میں وادی العصافیر کے مقام پر قابض اسرائیلی فوجیوں پر متعدد میزائل حملوں کا اعلان کرتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ یہ کارروائیاں جاری رہیں گی۔ تنظیم نے یہ بھی بتایا کہ صفد شہر کے شمال میں واقع عین زیتیم بیس پر ڈرون طیاروں کے غول سے حملہ کیا گیا ہے۔
کشیدگی کے آغاز کے بعد اپنے پہلے خطاب میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اسرائیلی حملوں کو ایک منصوبہ بند جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا کہ مقاومت اپنا جواب جاری رکھے گی اور قربانیاں چاہے کتنی ہی بڑی کیوں نہ ہوں دشمن کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرے گی۔
میدانی طور پر حزب اللہ نے تصدیق کی ہے کہ اس کے مجاہدین نے جنوبی لبنان کے قصبے الظہیرہ کی طرف پیش قدمی کرنے والی ایک اسرائیلی فورس کے ساتھ جھڑپ کی جس کے بعد قابض اسرائیلی فوجی خیام شہر میں ہونے والے مقابلوں کے نتیجے میں تلہ الحمامص کی طرف پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئے۔
یہ سنگین کشیدگی ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کی حالیہ جارحیت کے بعد سامنے آئی ہے جبکہ عالمی سطح پر ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ صورتحال ایک ایسی وسیع جنگ میں بدل سکتی ہے جس کے لبنان اور پورے خطے کی سکیورٹی اور انسانی حالات پر ہولناک اثرات مرتب ہوں گے۔