بیروت – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے اس بات پر زور دیا ہے کہ سفارتی کوششوں کو پندرہ ماہ کا طویل موقع دینے کے بعد جارحیت کے خلاف مزاحمت کے راستے نے کئی حقائق کو آشکار کر دیا ہے، جن میں سب سے نمایاں مزاحمت کی شجاعت، اس سے جڑے سماج کا بے مثال صبر اور عہد و پیماں کی مکمل پاسداری ہے۔
نعیم قاسم نے لبنانی مزاحمت کاروں کے نام اپنے ایک تحریری پیغام میں کہا کہ اس انتخاب نے ثابت کیا ہے کہ مزاحمت صحیح وقت پر دشمن کی جارحیت کو ناکام بنانے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے اور اس نے معرکے کے لیے خود کو بہترین اور منظم طریقے سے تیار کر رکھا ہے، نیز اپنی دفاعی صلاحیتوں، ان کی حدود اور پھیلاؤ کو خفیہ رکھتے ہوئے کسی ایک مخصوص جغرافیے تک محدود رہے بغیر دشمن کو پچھاڑنے کی صلاحیت ظاہر کی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مزاحمت نے لبنان کے مختلف حصوں سے اپنے جاں نثاروں کو فرنٹ لائن تک منتقل کرنے میں غیر معمولی لچک دکھائی ہے تاکہ دشمن کے ساتھ پوری قوت اور مہارت سے نمٹا جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ حزب اللہ دشمن کو سرپرائز دینے میں کامیاب رہی اور اس کے اچانک حملے کے عنصر کو بے اثر کرتے ہوئے اس کے تمام جارحانہ عزائم کو پہلے ہی بھانپ لیا اور ان کا مقابلہ کرنے کے لیے خود کو ہمہ وقت تیار رکھا۔
نعیم قاسم نے اشارہ کیا کہ موجودہ بحران کا واحد حل صرف جارحیت کی بندش، مقبوضہ علاقوں سے قابض اسرائیل کے مکمل انخلا، اسیران کی رہائی اور تعمیرِ نو کے آغاز کے ساتھ ساتھ بے گھر شہریوں کی اپنے گاؤں اور شہروں میں باوقار واپسی میں ہی پنہاں ہے۔
انہوں نے ایک بار پھر واضح کیا کہ قربانیاں چاہے کتنی ہی عظیم کیوں نہ ہوں، مزاحمت میدانِ کارزار میں ثابت قدمی سے ڈٹی رہے گی اور معرکے کا حتمی فیصلہ میدانِ جنگ میں ہی ہوگا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنان پر قابض اسرائیل کی سفاکیت میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے، جہاں شدید فضائی بمباری کے ساتھ ساتھ جنوبی لبنان میں زمینی کارروائیوں کا دائرہ بھی وسیع کر دیا گیا ہے جس کے نتیجے میں شہدا کی تعداد میں اضافہ اور بڑے پیمانے پر تباہی پھیل رہی ہے، جبکہ عالمی برادری سنگین انسانی بحران کے خدشات اور امن کی کوششوں کی ناکامی پر مسلسل خبردار کر رہی ہے۔