الخلیل – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غرب اردن کے جنوبی شہر الخلیل کے جنوب مغرب میں واقع قصبے بیت عوا پر بدھ کی شام میزائل کے ٹکڑے گرنے کے نتیجے میں تین خواتین شہری شہید اور متعدد افراد زخمی ہو گئے۔
فلسطینی ہلال احمر نے بتایا کہ اس کے عملے نے بیت عوا پر میزائل کے ٹکڑے گرنے کے باعث جاں بحق ہونے والی تین خواتین کی لاشوں کو منتقل کیا جبکہ ایک شدید زخمی شخص کو طبی امداد کے لیے ہسپتال پہنچایا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ میزائل کے ٹکڑے ایک خواتین بیوٹی سیلون پر گرے جس کے نتیجے میں وہاں موجود متعدد خواتین زخمی ہوئیں جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔
انہی ذرائع نے مزید بتایا کہ میزائل کے ٹکڑے محافظہ خلیل کے کئی دیگر مقامات پر بھی گرے ہیں۔
گذشتہ 28 فروری سنہ 2026ء سے ایران پر امریکہ اور قابض اسرائیل کی مشترکہ جارحیت کے آغاز کے بعد سے پولیس کے محکمہ انجینئرنگ برائے دھماکہ خیز مواد اور سول ڈیفنس کا عملہ مغربی کنارے کے متعدد علاقوں میں میزائلوں کے ٹکڑوں اور باقیات گرنے کے واقعات سے نمٹ رہا ہے جن کے نتیجے میں جانی و مالی نقصانات رپورٹ ہوئے ہیں۔
پولیس کے محکمہ انجینئرنگ برائے دھماکہ خیز مواد نے شہریوں کو اپنی حفاظت کی خاطر میزائل کے ٹکڑوں اور باقیات کے قریب جانے سے خبردار کیا ہے۔
محکمے نے ایک بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات اور بعض علاقوں میں میزائلوں کے ٹکڑوں یا باقیات کے گرنے کے پیش نظر پولیس شہریوں سے اپیل کرتی ہے کہ وہ اپنی سلامتی کے لیے درج ذیل ہدایات پر سختی سے عمل کریں: رہائشی علاقوں میں گرنے والے کسی بھی اجنبی جسم، ٹکڑے یا میزائل کی باقیات کے قریب نہ جائیں، بمباری کے دوران کھلی جگہوں پر کھڑے ہونے یا عمارتوں کی چھتوں پر چڑھنے سے گریز کریں، کسی محفوظ آڑ میں پناہ لیں اور ان اجسام کو کسی بھی صورت میں چھونے یا حرکت دینے کی کوشش نہ کریں کیونکہ ان میں خطرناک، زہریلے، آتش گیر مواد یا نہ پھٹنے والے اجزاء شامل ہو سکتے ہیں۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بچوں اور دیگر شہریوں کو گرنے والی چیز کے مقام سے دور رکھیں، وہاں ہجوم نہ لگائیں اور فوری طور پر ایمرجنسی نمبر (100) پر پولیس کو یا (102) پر سول ڈیفنس کو مطلع کریں اور اگر ممکن ہو تو مقام کی درست نشاندہی کریں۔
شہریوں سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ گرنے والی چیز کی تصویر بنانے یا اس کے قریب جانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ یہ عوامی سلامتی کے لیے خطرہ ہو سکتا ہے، اور جب تک ماہر ٹیمیں خطرے کو بے اثر کرنے کے لیے نہ پہنچ جائیں، سکیورٹی اداروں کی ہدایات پر عمل کریں۔
پولیس نے اس بات پر زور دیا کہ انجینئرنگ برائے دھماکہ خیز مواد کی ٹیمیں ان اجسام کو ٹھکانے لگانے اور علاقوں کو خطرات سے پاک کرنے کے لیے چوبیس گھنٹے کام کر رہی ہیں، اور شہریوں کا ہدایات پر عمل کرنا اور فوری اطلاع دینا جان و مال کے تحفظ میں معاون ثابت ہوتا ہے۔