تل ابیب – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) عبرانی ذرائع ابلاغ نے اطلاع دی ہے کہ ایک ایرانی میزائل نے جنوبی قابض اسرائیل (مقبوضہ فلسطین) میں بئر السبع کے قریب کیمیکلز کے ایک کارخانے کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں وہاں ہولناک آگ بھڑک اٹھی۔ اسرائیلی ریڈیو نے بتایا ہے کہ اس حملے میں کیمیکلز تیار کرنے والے ایک کارخانے کو نشانہ بنایا گیا اور تصدیق کی کہ جس تنصیب کو نشانہ بنایا گیا اس میں انتہائی خطرناک مواد موجود ہے۔
ریڈیو نے اپنی ایک بعد کی رپورٹ میں مزید بتایا کہ قابض صہیونی حکام نے نشانہ بننے والے کارخانے کے گرد سکیورٹی حصار قائم کر دیا ہے اور احتیاطی تدابیر کے طور پر علاقے کو آبادی سے خالی کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی ایمبولینس سروس نے کارخانے پر ایرانی حملے کے نتیجے میں کم از کم ایک شخص کے زخمی ہونے کی اطلاع دی ہے تاہم زخمیوں کی نوعیت یا نقصانات کے حجم کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
دوسری جانب اسرائیلی سول ڈیفنس نے اس کیمیکل کارخانے کے گردونواح میں جانے سے خبردار کیا ہے جسے ایران نے نشانہ بنایا ہے اور رہائشیوں کو سلامتی کی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی ہے۔ اسی طرح اسرائیلی وزارت ماحولیات نے اعلان کیا ہے کہ اس نے اپنی ماہر ٹیموں کو نقصانات کی جانچ پڑتال اور امدادی کاموں کے لیے جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دیا ہے۔
عبرانی چینل 12 نے رپورٹ کیا ہے کہ اسرائیلی فائر بریگیڈ کی ٹیمیں بئر السبع میں کیمیکل کارخانے میں لگنے والی آگ پر قابو پانے کی کوشش کر رہی ہیں جو براہ راست میزائل لگنے کے بعد لگی تھی۔ ایران نے آدھے گھنٹے سے بھی کم وقت میں میزائلوں کے تین دستے روانہ کیے جنہوں نے جنوبی قابض اسرائیل بشمول دیمونہ اور بئر السبع کے علاوہ گریٹر تل ابیب کے علاقوں کو نشانہ بنایا۔
ادھر اسرائیلی ہوم فرنٹ نے کہا ہے کہ تل ابیب اور وسطی قابض اسرائیل کے وسیع علاقوں میں سائرن بج اٹھے ہیں جو کہ ایران سے ان علاقوں کی طرف داغے گئے میزائلوں کی نشاندہی کے ساتھ ہی بجنا شروع ہوئے۔ اس کے ساتھ ساتھ بئر السبع، دیمونہ اور جنوبی قابض اسرائیل کے وسیع علاقوں میں بھی خطرے کے سائرن بجنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
ایرانی میزائلوں کے ذریعے اسرائیلی کارخانے کو نشانہ بنانے کا یہ واقعہ ایران میں متعدد کارخانوں اور حساس تنصیبات پر وسیع پیمانے پر کیے گئے اسرائیلی حملوں کے دو دن بعد پیش آیا ہے۔ قابض اسرائیل نے گذشتہ جمعرات اور جمعہ کو ایران میں لوہے اور اسٹیل کی پیداوار کی بڑی تنصیبات اور دیگر صنعتی مقامات کو نشانہ بنایا تھا جسے تہران نے خطرناک جارحیت قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ یہ جنگ کو ایک نئے مرحلے میں داخل کر دے گا۔