جنین ۔ روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ
اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے کہا ہے کہ قابض اسرائیل کی مجرم فوج کی جانب سے غرب اردن کے شمالی شہر جنین پناہ گزین کیمپ میں مزید 24 گھروں کو منہدم کرنے کا اعلان ایک مکمل اور کھلا جنگی جرم کا اعلان ہے۔
اپنے بیان میں حماس نے اسے ایک خطرناک جارحیت قرار دیا جو قابض اسرائیل کی جاری نسلی صفائی کی مذموم پالیسی کا حصہ ہے جس کے ذریعے وہ ہمارے عوام کو نشانہ بنا رہا ہے۔ قابض اسرائیل جنین کیمپ کو تباہ کر کے اس کے باسیوں پر دائمی جبری بے دخلی مسلط کرنا چاہتا ہے تاکہ غرب اردن کے الحاق کے شیطانی منصوبوں اور مغربی کنارے میں آبادیاتی نقشہ بدلنے کی اپنی کوششوں کو عملی جامہ پہنا سکے۔
حماس نے عرب ممالک، عالمی برادری، اقوام متحدہ اور تمام متعلقہ فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ مغربی کنارے میں ہمارے عوام کے خلاف جاری اس ہمہ گیر جارحیت کے مقابلے میں قانونی اور اخلاقی ذمہ داریاں پوری کریں۔
بیان میں اس امر پر زور دیا گیا کہ قابض اسرائیل کی فاشسٹ حکومت پر سخت اور باز رکھنے والی پابندیاں عائد کی جائیں اور فوری اقدامات کر کے مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس گورنری اور غزہ کے عوام کو تحفظ فراہم کیا جائے جو اس وقت منظم اور ہمہ گیر نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔