غزہ (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) حماس نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں خطے میں جاری خلاف ورزیوں کے تسلسل اور ایک “خطرناک کشیدگی” قرار دیا ہے، اور اس تمام صورتحال کی مکمل ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی ہے۔
پیر کی شام جاری بیان میں حماس نے “لبنانی سرزمین پر وحشیانہ صہیونی جارحیت” کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل اپنی جارحانہ پالیسیوں اور جرائم کے نتائج کا خود ذمہ دار ہے۔
حماس نے لبنان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور عرب و مسلم ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ متحد ہو کر اسرائیلی حملوں کا مؤثر مقابلہ کریں، کیونکہ یہ اقدامات خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ ہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب لبنانی محاذ پر کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے اور اسرائیلی حملوں کا دائرہ وسیع ہوتا جا رہا ہے۔
پیر کے روز اسرائیلی افواج نے بیروت کے جنوبی مضافات اور جنوبی لبنان پر وسیع فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں 52 افراد جاں بحق اور 154 سے زائد زخمی ہوئے۔ یہ حملے نومبر 2024 سے نافذ جنگ بندی معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی قرار دیے جا رہے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے مطابق لبنان بھر میں 70 سے زائد مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جن میں مبینہ اسلحہ گودام اور راکٹ لانچنگ پلیٹ فارم شامل تھے۔
حزب اللہ نے پیر کی صبح اعلان کیا کہ اس نے محاذ میں شمولیت اختیار کرتے ہوئے اسرائیلی قصبوں اور بستیوں پر راکٹوں کی بارش کی۔ تنظیم نے اسے جاری اسرائیلی حملوں کے تناظر میں “جائز دفاع” قرار دیا۔
اکتوبر 2023 سے لبنانی محاذ پر جاری اسرائیلی کشیدگی کے نتیجے میں 4,000 سے زائد افراد جاں بحق اور تقریباً 17,000 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ ستمبر 2024 میں یہ تنازع مزید وسیع ہو گیا۔
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے تقریباً روزانہ خلاف ورزیاں جاری ہیں، جبکہ اسرائیلی افواج گزشتہ جنگ میں قبضے میں لی گئی پانچ اہم پہاڑیوں سمیت دیگر علاقوں پر بدستور قابض ہیں۔
دوسری جانب فلسطینی اسلامی جہاد نے پیر کے روز اعلان کیا کہ اس کے عسکری ونگ القدس بریگیڈز کے ایک اعلیٰ کمانڈر ادہم عدنان العثمان (ابو حمزہ)، عمر 41 سال، بیروت کے جنوبی مضافات پر اسرائیلی فضائی حملے میں جاں بحق ہو گئے۔ تنظیم نے اس حملے کو “غدارانہ صہیونی کارروائی” قرار دیا۔
اسلامی جہاد نے کہا کہ ان کی شہادت مزاحمت کے تسلسل کا باعث بنے گی۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گزشتہ ہفتے سے ایران پر جاری امریکی اور اسرائیلی حملوں اور اس کے جواب میں ایران کی جانب سے اسرائیل اور خلیجی ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملوں کے باعث خطے میں کشیدگی عروج پر ہے۔