غزہ ۔ روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ
اسلامی تحریک مزاحمت "حماس” نے کہا ہے کہ جنوبی شام کی بلدیہ بیت جن پر قابض اسرائیل کا مجرمانہ حملہ جس میں بچوں سمیت متعدد بے گناہ شامی شہری شہید ہوئے شامی خودمختاری پر سنگین حملہ ہے اور اس سفاکیت پسند دشمن کی اسی پالیسی کا تسلسل ہے جو وہ عرب برادر ممالک کے خلاف مسلسل بے لگام انداز میں استعمال کر رہا ہے۔
حماس نے جمعہ کے روز جاری اپنے بیان میں بیت جن کے عوام کے اس بہادرانہ کردار کو زبردست خراج تحسین پیش کیا جنہوں نے صہیونی جارحیت کے سامنے ڈٹ کر دشمن فوج اور اس کی بکتر بند گاڑیوں کو نقصان پہنچایا۔
حماس نے عرب لیگ، اسلامی تعاون تنظیم اور اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ فوری طور پر حرکت میں آئیں اور قابض اسرائیل کے خلاف ایسے ٹھوس اقدامات کریں جو اس کی بین الاقوامی قوانین کو روندنے کی کھلی خلاف ورزیوں کا راستہ روک سکیں کیونکہ یہ اقدامات علاقائی اور عالمی امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ بن چکے ہیں۔
اس سے قبل حماس کے ترجمان حازم قاسم نے کہا تھا کہ شام پر جمعہ کی صبح قابض اسرائیل کے فضائی حملے اور اس کے ساتھ ساتھ غزہ، غرب اردن اور لبنان پر اس کے متواتر حملے اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ قابض ریاست پورے خطے میں اپنی جارحیت پھیلانے کے درپے ہے۔
قاسم نے اپنے مختصر بیان میں زور دیا کہ قابض اسرائیل کی حکومت اپنی جارحانہ روش کے ذریعے خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ ہے اس لیے لازم ہے کہ عرب دنیا متحد ہو کر عملی اور ٹھوس موقف کے ذریعے اس انتہا پسند حکومت کی غنڈہ گردی کا خاتمہ کرے۔
شامی نشریاتی ادارے الاخباریہ کے مطابق کم از کم 10 شامی شہری شہید اور متعدد زخمی ہوئے جب قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے دمشق کی بلدیہ بیت جن پر بمباری کی۔
شامی خبررساں ایجنسی نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی افواج نے صبح تین بج کر چالیس منٹ پر بلدیہ بیت جن پر توپ خانے سے شدید گولہ باری کی پھر اس کے بعد اس کی ایک زمینی فوجی یونٹ نے گاؤں میں گھس کر تین افراد کو گرفتار کیا اور بعد میں پسپا ہو گئی۔
خبر کے مطابق بیت جن کے عوام نے اس دراندازی کا بھرپور مقابلہ کیا اور قابض اسرائیلی فوج کی جانب سے اندھا دھند فائرنگ کے باوجود ڈٹ کر کھڑے رہے جس کے نتیجے میں عوام اور درانداز قابض فوج کے درمیان گھمسان کی جھڑپیں چھڑ گئیں۔