غزہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے اس بات پر زور دیا ہے کہ قابض اسرائیل کی کینسٹ میں قومی سکیورٹی کمیٹی کی جانب سے اسیران کو سزائے موت دینے کے نام نہاد قانون کی پہلی منظوری ایک خطرناک دہشت گردانہ قدم ہے جو جیلوں کے اندر ہمارے بہادر اسیران کے خلاف قتل اور تصفیے کے جرائم کی راہ ہموار کرتا ہے۔
حماس نے ایک صحافتی بیان میں واضح کیا کہ یہ منظوری قابض اسرائیل کے نظام میں بے مثال وحشیانہ تنزلی کی حد کو ظاہر کرتی ہے جو جنگی قیدیوں سے متعلق تمام بین الاقوامی قوانین اور معاہدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔
حماس نے اس قانون کی سنگینی کے بارے میں خبردار کیا ہے جس کے ذریعے قابض دشمن جیلوں کو براہ راست تصفیہ گاہوں میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہا ہے اس کے بعد کہ اس نے تشدد، محرومی اور طبی غفلت کے ذریعے اسیران کے خلاف سست موت کے تمام طریقے پہلے ہی آزما لیے ہیں۔
تحریک نے اس مجرمانہ قانون کے نتائج کی ذمہ داری قابض دشمن پر عائد کی ہے جو قتل کو قانونی شکل دے رہا ہے اور مزید کہا کہ ہم اس بات پر زور دیتے ہیں کہ جیلوں کے اندر ہمارے اسیران کی زندگی کو نقصان پہنچانا ایک سرخ لکیر ہے جو ہر وسیلے سے غصے اور مقابلے کے دروازے کھول دے گی۔
حماس نے اپنی قوم اور عوام کے بیٹوں سے اسیران کے کاز کی حمایت اور نصرت کی کوششوں کو تیز کرنے اور تمام میدانوں میں عوامی سرگرمیوں کو بڑھانے کی اپیل کی ہے اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی برادری، اسیران کے اداروں، انسانی حقوق کی تنظیموں اور دنیا کے تمام آزاد لوگوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس جرم کو حتمی طور پر منظور ہونے سے پہلے روکنے کے لیے فوری اقدام کریں۔
قابض اسرائیل کی کینسٹ میں قومی سکیورٹی کمیٹی نے گذشتہ رات اسیران کو سزائے موت دینے کے قانون کے ایک متفقہ فارمولے کی منظوری دی تھی تاکہ اسے دوسری اور حتمی خواندگی کے لیے پیش کیا جا سکے۔
اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق کمیٹی قانون کی تیاری مکمل کر چکی ہے اور اسے آئندہ ہفتے حتمی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا یہ فیصلہ مہینوں کی بحث و تکرار اور سینکڑوں تحفظات پر غور کرنے کے بعد کیا گیا ہے۔
قانون کے حتمی متن میں ریاست اسرائیل کے خلاف دشمنی اور قوم پرستی کی بنیاد پر قتل کا سبب بننے والوں کے لیے 90 دن کے اندر پھانسی کی سزا تجویز کی گئی ہے۔