• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 16 اپریل 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

عالمی مندوب نے اسرائیلی قانون کو انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرہ قرار دے دیا

عالمی مندوب نے فلسطینی اسیران کے لیے سزائے موت کے قانون پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ممکنہ خطرناک نتائج سے خبردار کیا۔

جمعہ 03-04-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم, عالمی خبریں
0
عالمی مندوب نے اسرائیلی قانون کو انسانی حقوق کے لیے سنگین خطرہ قرار دے دیا
0
SHARES
5
VIEWS

نیویارک – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) تشدد کے معاملات پر اقوام متحدہ کی خصوصی مندوب ایلس ایڈورڈز نے فلسطینی اسیران پر سزائے موت نافذ کرنے کی اجازت دینے والے قانون کی منظوری پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انسانی حقوق کے نظام پر اس کے خطرناک اثرات اور بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزیوں بشمول تشدد کی مطلق ممانعت کے حوالے سے سخت خبردار کیا ہے۔

ایڈورڈز نے جاری کردہ ایک بیان میں کہا کہ سزائے موت کا نفاذ شاذ و نادر ہی ایسی ہولناک اذیت کے بغیر ہوتا ہے جو تشدد اور دیگر ظالمانہ یا غیر انسانی سلوک کی ممانعت کے منافی نہ ہو۔

عالمی عہدیدار نے متنبہ کیا کہ فوجداری قانون کے اطلاق میں فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان تفریق ایک غیر قانونی خلاف ورزی تصور ہوگی اور یہ تشدد کے خطرات کو مزید بڑھا دے گی۔

انہوں نے مزید کہا کہ نسلی یا قومی بنیادوں پر یا سیاسی نظریات کی وجہ سے منتخب طریقے سے سزائے موت کا اطلاق کرنا دراصل بدترین قسم کا امتیازی سلوک ہے جو قانون کے سامنے برابری کی بنیادی ضمانتوں کو پامال کر دیتا ہے۔

ایڈورڈز نے ان خدشات کا اظہار بھی کیا کہ یہ نیا قانون قانونی کارروائی کی لازمی ضمانتوں کو کمزور کر دے گا جس سے غلط سزائیں سنائے جانے کے امکانات بڑھ جائیں گے خاص طور پر اگر ان کی بنیاد تشدد کے ذریعے لیے گئے اعترافات پر ہو۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ ایسے نظاموں میں سزائے موت کے دائرہ کار کو وسعت دینا جہاں تشدد کے الزامات بڑے پیمانے پر موجود ہوں ایک ایسا سنگین خطرہ ہے جس کی تلافی ممکن نہیں کیونکہ یہ مستقبل میں غلطیوں کی تصحیح کے تمام راستے بند کر دیتا ہے۔

انہوں نے اپنے بیان کے اختتام پر اس بات پر زور دیا کہ سزائے موت انسانی وقار کے منافی ہے اور اس کی ناقابل واپسی نوعیت کسی بھی غلطی کو تباہ کن بنا دیتی ہے۔

Tags: DeathPenaltyGlobalConcernHumanRightsInternationalLawisraelpalestinePalestinianPrisonersUN
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.