(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی عوامی سطح کے چار نمایاں دھڑوں نے جمہوریہ وینزویلا کے خلاف امریکی کھلی جارحیت کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ان حلقوں نے اس اقدام کو عالمی تعلقات میں ایک نہایت خطرناک نظیر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ عالمی امن اور سکیورٹی کے لیے براہ راست خطرہ ہے اور اس نام نہاد عالمی نظام کے کھوکھلے پن کو بے نقاب کرتا ہے جو قانون اور استحکام کے دعوے تو کرتا ہے مگر عملاً طاقت کی حکمرانی پر قائم ہے۔
فلسطینی یونین برائے لاطینی امریکہ، فلسطینی قومی کانفرنس، بیرون ملک فلسطینیوں کی عوامی کانفرنس اور فلسطینی عوامی کانفرنس چودہ ملین نے مشترکہ بیان میں کہا کہ وینزویلا کے خلاف جو کچھ کیا گیا اور اس کے ساتھ صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کے اغوا کا واقعہ پیش آیا وہ ایک مکمل بین الاقوامی جرم اور کھلی عالمی قذاقی ہے۔ یہ اقدام قومی خودمختاری اور عوام کی آزادانہ مرضی کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ننگی طاقت کے منطق کو مسلط کرنے کے مترادف ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ یہ جارحیت اندرونی تخریب کاری کی ناکام کوششوں، بیرونی سرپرستی کے ہتھکنڈوں اور ایجنٹ نیٹ ورکس کی ناکامی کے بعد سامنے آئی، جسے براہ راست فوجی طاقت کے استعمال کے ذریعے مکمل کیا گیا۔ یہ سب کچھ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے اور اس امر کی کھلی دلیل ہے کہ عالمی نظام کی انصاف پسندی اور اصولوں پر مبنی ہونے کے تمام دعوے زمین بوس ہو چکے ہیں۔
کانفرنسوں نے اس بات پر زور دیا کہ یہ واقعہ محض ایک قانونی خلاف ورزی نہیں بلکہ اس حقیقت کا علانیہ اظہار ہے کہ جب بالادستی کے مفادات کو خطرہ لاحق ہو تو بین الاقوامی قانون اپنی حقیقی روح سے محروم ہو جاتا ہے۔ بیان کے مطابق یہ اقدام کسی بھی سیاسی یا اخلاقی جواز کے بغیر انجام دیا گیا۔
اسی تناظر میں دستخط کنندہ اداروں نے وینزویلا اور اس کے صدر کی جانب سے فلسطینی قضیہ کے حق میں اختیار کیے گئے واضح اور جرات مندانہ مؤقف کو یاد کیا، بالخصوص فلسطینی عوام کے خلاف جاری نسل کشی کی جنگ کی کھلی مخالفت کو سراہا۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ یہ اقدام دنیا بھر کے آزاد انسانوں کے حوصلے پست نہیں کر سکے گا اور نہ ہی حق اور انصاف کے حامی عوام کی اجتماعی ارادے کو توڑ پائے گا۔
بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ وینزویلا تنہا نہیں ہے اور کاراکاس میں جو کچھ ہو رہا ہے اسے قوموں کے حق خود ارادیت اور خودمختاری کے خلاف جاری ایک وسیع تر عالمی یلغار سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطینی حلقوں کے مطابق وینزویلا کو نشانہ بنانا اسی کھلی جنگ کا تسلسل ہے جو برسوں سے فلسطین اور اس کے منصفانہ قضیہ کے خلاف لڑی جا رہی ہے۔
آخر میں چاروں کانفرنسوں نے دنیا بھر کے آزاد اور زندہ ضمیروں سے اپیل کی کہ وہ سنجیدگی اور عملی سطح پر اپنی کوششیں یکجا کریں، اس کھلی جارحیت کا مؤثر مقابلہ کریں، اس کے سیاسی اور معاشی اہداف کو ناکام بنائیں اور طاقت و غلبے کے اس منطق کو مسترد کریں جسے آج کے عالمی نظام پر مسلط کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔