(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کے دفترِ اطلاعات نے ایک بیان میں کہا ہے کہ 2.4 ملین سے زائد فلسطینی غیر معمولی انسانی تباہی کا سامنا کر رہے ہیں، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے جاری نسل کشی کی پالیسی اور روزانہ بے گناہ شہریوں کے قتل نے صورت حال کو سنگین تر بنا دیا ہے۔
بیان کے مطابق، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ کی تمام اہم سرحدی گزرگاہوں کو بند کرنے اور انسانی امداد کی فراہمی کو روکنے کے اقدام نے بحران کو مزید گہرا کر دیا ہے، فلسطینی عوام اس وقت ایک منظم نسل کشی کے منصوبے کا سامنا کررہے ہیں جس میں بھوک کو بطور ہتھیار استعمال کیا جارہا ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں غذائی اجناس اور ادویات کی ترسیل کو محصور شہر میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ پانی کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پانی کے کنویں بھی تباہ کر دیے گئے ہیں، شہریوں کو پانی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔
غزہ کے دفترِ اطلاعات نے فوری طور پر سرحدی گزرگاہوں کو کھولنے اور انسانی امداد کی فراہمی کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل اور امریکی حکومت کو ان مظالم کے لیے مکمل طور پر ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔