اٹلی – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی پٹی کا ظالمانہ محاصرہ توڑنے کے مشن پر مامور گلوبل صمود فلوٹیلا کے تحت اتوار کے روز اٹلی سے بعض بحری جہازوں نے اپنے طے شدہ مرکز کی جانب پیش قدمی شروع کر دی ہے تاکہ مہم بہار سنہ 2026ء میں بھرپور شرکت کی جا سکے۔
نیوز ایجنسی اناطولیہ کے مطابق گلوبل صمود فلوٹیلا کے ایک نئے مشن کا آج آغاز ہو گیا ہے جس کا بنیادی مقصد غزہ کی پٹی کا محاصرہ ختم کرنا اور وہاں کے مظلوم عوام تک انسانی امداد پہنچانا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بیانکا نامی بحری جہاز شمالی اٹلی کی بندرگاہ لیورنو سے روانہ ہو کر آج نیپلز پہنچ گیا ہے۔
اس موقع پر فلسطین کے حامیوں کی ایک بڑی تعداد نیپلز کے سانازارو اسکوائر میں جمع ہوئی اور فلسطینی پرچم لہراتے ہوئے اس بندرگاہ تک مارچ کیا جہاں بحری جہاز لنگر انداز تھا۔
مظاہرین نے اس دوران فلسطین کی آزادی کے حق میں فلک شگاف نعرے لگائے اور فلسطینی کاز کی حمایت میں گیت گائے۔
واضح رہے کہ اگست سنہ 2025 ءکے اواخر میں اسپین کی بندرگاہ بارسلونا سے گلوبل صمود فلوٹیلا کے کئی جہاز روانہ ہوئے تھے جس کے بعد یکم ستمبر کی صبح شمال مغربی اٹلی کی جنیوا بندرگاہ سے بھی دیگر جہازوں نے اپنی منزل کی جانب سفر شروع کیا تھا۔
اسی ماہ کی 7 تاریخ کو اسپین اور اٹلی سے آنے والے یہ جہاز تیونس کے ساحلوں پر پہنچنا شروع ہوئے تاکہ وہاں سے غزہ کی جانب پیش قدمی کر کے قابض اسرائیل کا محاصرہ توڑ سکیں اور بھوک کے شکار فلسطینیوں کے لیے امداد کی فراہمی کا انسانی راستہ کھول سکیں۔
تاہم جب یہ فلوٹیلا غزہ کی سمندری حدود کے قریب پہنچا تو قابض اسرائیل نے ان بحری جہازوں پر حملہ کر دیا اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو گرفتار کرنے کے ساتھ ساتھ تمام انسانی امداد بھی ضبط کر لی تھی۔
یاد رہے کہ 8 اکتوبر سنہ 2023 کو قابض اسرائیل نے غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ چھیڑی تھی جس کے نتیجے میں 72 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوئے جن میں اکثریت بچوں اور خواتین کی تھی جبکہ اس سفاکیت سے 90 فیصد انفراسٹرکچر تباہ ہو گیا۔
اگرچہ گذشتہ 10 اکتوبر سے سیز فائر کا معاہدہ نافذ العمل ہے لیکن اس کے باوجود قابض اسرائیل نے بمباری اور فائرنگ کے ذریعے سینکڑوں مرتبہ اس کی خلاف ورزی کی ہے جس کے نتیجے میں اب تک سینکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔