(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کے فلسطینیوں کے خلاف غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ جاری ہے۔ جہاں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے اپنی زمینی کارروائیوں کو بڑھایا ہے اور فضائی حملوں میں شدت لائی ہے، وہاں اس کی نام نہاد فوج نے خان یونس میں ناصر اسپتال پر بمباری کی ہے۔
محصور شہر پر شدید صیہونی بمباری جاری ہے تو دوسری جانب شمال اور جنوب میں زمینی جارحیت کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل فلسطینیوں کو بھوک اور پیاس کا شکار بنانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ غزہ کو غیر رہائشی بنا سکے اور اپنے بے گھر کرنے کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکے۔
غزہ پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ میں 7 اکتوبر 2023 سے اب تک 50 ہزار سے زیادہ فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں زیادہ تر بچے اور خواتین شامل ہیں، جبکہ ہزاروں افراد ابھی تک لاپتہ ہیں۔
غزہ کی وزارت صحت کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، اتوار کو غزہ کے اسپتالوں میں 61 شہید اور 41 زخمی داخل ہوئے، جس سے 18 مارچ 2025 سے اب تک شہداء کی تعداد 673 اور زخمیوں کی تعداد 1,233 تک پہنچ گئی ہے۔
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے غزہ میں نسل کشی کا دوبارہ آغاز کیا ہے۔ وزارت صحت نے بتایا کہ اسرائیلی جارحیت میں کل شہداء کی تعداد 50,021 اور زخمیوں کی تعداد 113,274 تک پہنچ چکی ہے۔