• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
ہفتہ 28 فروری 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

آزادی اظہار پر پابندی، فرانس میں ایرانی خاتون ملک بدر

طوفان الاقصیٰ کی حمایت اور صہیونیت کے خلاف بیانات دینے پر فرانسیسی عدالت نے ایرانی خاتون کو سزا سنائی۔

جمعہ 27-02-2026
in خاص خبریں, عالمی خبریں
0
آزادی اظہار پر پابندی، فرانس میں ایرانی خاتون ملک بدر
0
SHARES
1
VIEWS

پیرس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فرانس کی ایک عدالت نے ایک ایرانی شہری مہدیہ اسفندیاری کو سوشل میڈیا پر مبینہ طور پر "دہشت گردی کی تعریف” کرنے کے الزام میں چار سال قید کی سزا سنائی ہے، جس میں سے ایک سال کی سزا فوری طور پر نافذ العمل ہوگی۔ عدالت نے سزا کے ساتھ ساتھ ان کے فرانس میں داخلے پر مستقل پابندی عائد کرتے ہوئے ملک چھوڑنے کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

انتیس سالہ "میڈلین” (مہدیہ) اسفندیاری سنہ 2018ء سے لیون شہر میں مقیم طالبہ ہیں، جنہوں نے آٹھ ماہ کی حفاظتی حراست کاٹنے کے بعد رہائی ملتے ہی عدالت کا کمرہ چھوڑ دیا۔ ان کے وکیل نبیل بودی نے اس فیصلے کو غیر معمولی طور پر سخت قرار دیتے ہوئے اس کے خلاف اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا ہے۔ سماعت کے بعد گفتگو کرتے ہوئے نبیل بودی نے واضح کیا کہ ممکنہ طور پر سفارتی محرکات کی بنیاد پر فیصلہ سنانا قانونی غلطی ہو سکتی ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ وہ اپیل کریں گے تاکہ حقائق اور قانونی بنیادوں پر مبنی فیصلہ حاصل کیا جا سکے۔

اسفندیاری کو گذشتہ برس انٹرنیٹ پر ان پوسٹس کے پس منظر میں گرفتار کیا گیا تھا جن میں انہوں نے سات اکتوبر سنہ 2023ء کو غزہ کی پٹی کے گرد و نواح میں غاصب اسرائیل کی بستیوں کے خلاف مزاحمتی دھڑوں کے آپریشن "طوفان الاقصیٰ” کی تعریف کی تھی۔ فرانسیسی استغاثہ نے اسفندیاری پر الزام عائد کیا ہے کہ انہوں نے سنہ 2023ء اور سنہ 2024ء کے دوران ٹیلی گرام، ایکس، ٹویچ اور یوٹیوب سمیت ایک ایسی ویب سائٹ پر جو ایک فرانسیسی شہری چلاتا ہے، "محورِ مزاحمت” کے نام سے بنے اکاؤنٹس سے مواد شائع کیا۔

اسفندیاری نے اعتراف کیا کہ "محورِ مزاحمت” نیٹ ورک قائم کرنے کا خیال ان کا تھا، تاہم انہوں نے ان تحریروں کی ذمہ داری لینے سے انکار کیا جو ان سے منسوب کی گئی تھیں۔ انہوں نے عدالت میں دوٹوک موقف اختیار کیا کہ آپریشن "طوفان الاقصیٰ” ایک مزاحمتی کارروائی تھی نہ کہ کوئی دہشت گردانہ عمل۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ حملہ فلسطینی خواتین اور بچوں کے قتلِ عام اور فلسطینیوں کو قیدی بنانے جیسے مظالم کے ردعمل میں کیا گیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر اصرار کیا کہ جو کچھ ہوا وہ "عملِ مزاحمت” ہے نہ کہ "دہشت گردی”۔

Tags: Al-Aqsa StormCourt RulingDeportationFranceFreedom of ExpressionIranIranian WomenZionism
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.