غزہ – روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ
غزہ کی پٹی میں مزاحمتی سکیورٹی فورسز نے ایک اہم انتباہ جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جعلی اور گمراہ کن اکاؤنٹس کی سرگرمی میں اضافہ ہو گیا ہے جو مختلف حیلوں بہانوں سے فلسطینی مزاحمت کاروں کی ذاتی معلومات اکٹھی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یہ عمل براہِ راست سکیورٹی خطرے میں تبدیل ہو چکا ہے۔
مزاحمتی فورسز کی جانب سے سکیورٹی پلیٹ فارم الحارس پر جاری بیان میں واضح کیا گیا کہ یہ جعلی اکاؤنٹس مختلف ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور مباحثاتی گروپوں کے اندر سرگرم ہیں۔ وہ مخصوص افراد کے بارے میں معلومات طلب کرتے ہیں اور ان کی تصاویر شیئر کرتے ہیں۔ بظاہر "انسانی امداد پہنچانے” یا "مدد فراہم کرنے” جیسے عنوانات استعمال کر کے شہریوں کو دھوکا دیا جاتا ہے تاکہ وہ حساس معلومات ظاہر کر دیں۔
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ان اکاؤنٹس کو چلانے والے گروہ فریب کے مختلف طریقے استعمال کرتے ہیں اور شہریوں کے جذبۂ خیر کو ہتھیار بنا کر ان سے معلومات حاصل کرتے ہیں۔ ایسی متعدد مثالیں سامنے آئی ہیں جن میں مزاحمت کار ان ہی طریقوں کے ذریعے نشانہ بنے کیونکہ ان کی معلومات پہلے سے جمع کر لی گئی تھیں۔ اس لیے انتہائی درجہ ہوشیاری ناگزیر ہے۔
امنِ مزاحمت نے شہریوں سے مطالبہ کیا کہ وہ کسی بھی مشکوک یا جعلی اکاؤنٹ کی فوری اطلاع الحارس پلیٹ فارم کے منظور شدہ ذاتی رابطہ چینلز کے ذریعے دیں۔ بیان میں کہا گیا کہ شہریوں کا تعاون سکیورٹی مضبوطی اور دشمن کے نفوذ و نشانہ سازی کی کوششوں کو روکنے کے لیے بنیادی ستون ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب سات اکتوبر سنہ2023ءسے جاری قابض اسرائیل کے جاری وحشیانہ حملوں نے غزہ کے لاکھوں باشندوں کو بے گھر کر دیا ہے۔ اس ظلم و جارحیت میں اب تک دو لاکھ انتالیس ہزار سے زائد فلسطینی شہید و زخمی ہو چکے ہیں۔ ہزاروں لاپتہ ہیں اور سیکڑوں ہزار شہری دربدر ہیں۔ غزہ کا بیشتر علاقہ وسیع پیمانے پر تباہی کا شکار ہے اور قابض اسرائیل کی جانب سے ظلم، محاصرے اور نسل کشی کی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔