(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) صیہونی دہشتگردی سے متاثر فلسطینی پناہ گزینوں کے لئے اقوام متحدہ کے امدادی ادارے ’انروا‘ کے کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے بدھ کے روز غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی نام نہاد فوج کی جانب سے غزہ کے علاقے جبالیہ میں اقوام متحدہ کے ہیلتھ سینٹر پر ہونے والے حملے پر شدید ردعمل ظاہر کیا۔
انہوں نے کہا کہ "غزہ میں تمام سرخ لکیریں بار بار عبور کی جا رہی ہیں”۔ ان کا کہنا تھا کہ ابتدائی رپورٹس کے مطابق جبالیہ کی عمارت پر بمباری کی گئی جس میں 700 سے زائد افراد پناہ لیے ہوئے تھے۔ یہ عمارت پہلے صحت کا مرکز تھی اور جنگ کے دوران پہلے بھی شدید نقصان کا شکار ہو چکی تھی۔
کمشنر جنرل نے اس حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ غزہ میں اقوام متحدہ کے اہلکاروں، احاطوں اور آپریشنز کے تحفظ کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے اس حملے اور دیگر سنگین خلاف ورزیوں کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جنگی طیاروں نے جبالیہ پناہ گزین کیمپ میں ’انروا‘ کلینک کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 22 افراد شہید اور درجنوں زخمی ہوگئے۔ یہ حملہ اس وقت کیا گیا جب کلینک میں 700 سے زائد افراد پناہ گزین تھے، جن میں زیادہ تر خواتین اور بچے شامل تھے۔
دوسری جانب غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی نام نہاد فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ غزہ میں دو فلسطینی طبی عملے کی ہلاکت کی تحقیقات کر رہی ہے، جنہیں اسرائیلی فوج کی جانب سے نشانہ بنایا گیا۔ یہ تحقیقات رفح میں ہونے والی متعدد ہلاکتوں کے بعد شروع کی گئی ہیں، جن میں پیرامیڈیکس اور سول ڈیفنس کے اہلکار شامل ہیں۔ ان ہلاکتوں کی عالمی سطح پر شدید مذمت کی گئی ہے، اور عالمی برادری سے اس صورتحال کا نوٹس لینے کی ضرورت پر زور دیا جا رہا ہے۔