• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
جمعرات 12 مارچ 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن: مسجد اقصیٰ کی تالہ بندی جنگی اقدام ہے

قدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے قابض اسرائیل کی بارہ روزہ مسجد اقصیٰ کی بندش کو جنگی اقدام قرار دیا۔

جمعرات 12-03-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم
0
القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن: مسجد اقصیٰ کی تالہ بندی جنگی اقدام ہے
0
SHARES
1
VIEWS

مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل ایمن زیدان نے اردن کے وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد الخلايلہ سے ٹیلیفونک گفتگو میں کہا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی موجودہ تالہ بندی ایک جنگی اقدام ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل اس بندش کے ذریعے مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام میں مداخلت کر کے یہود سازی کے منصوبے کو آگے بڑھانا چاہتا ہے۔

زیدان نے مطالبہ کیا کہ چونکہ مسجد کھولنے کا اصل اختیار اردنی اوقاف کے پاس ہے، اس لیے وہ خود مسجد کھولنے کا اعلان کرے اور نمازیوں کو وہاں جوق در جوق پہنچنے کی دعوت دے۔ یاد رہے کہ صہیونی ریاست نے 28 فروری سنہ 2026ء کو نام نہاد عوامی سلامتی کا بہانہ بنا کر مسجد اقصیٰ کو بند کر دیا تھا، جو کہ مسلسل بارہویں روز بھی برقرار ہے۔ اردن کی حکومت نے بھی اس بندش کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اسے فوری کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کا مقصد اردنی اوقاف سے مسجد کو کھولنے اور بند کرنے کے اختیارات چھیننا ہے۔ یہ سب کچھ یہود سازی کے اس منظم منصوبے کا حصہ ہے جس کے تحت مسجد اقصیٰ کی جگہ خود ساختہ ہیکل سلیمانی قائم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے اور اس مقصد کے لیے مسجد کی تقسیم کا عبوری مرحلہ طے کیا جا رہا ہے۔

زیدان نے زور دے کر کہا کہ قابض اسرائیل مسجد اقصیٰ کو بند کر کے خود کو اس مقدس مقام کا منتظم ثابت کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ وہاں اپنی مرضی کی تقسیم نافذ کر سکے۔ یہ اقدام اردنی محکمہ اوقاف کی اس اسلامی انتظامیہ کے متصادم ہے جو مسجد کے خالص اسلامی تشخص کی علامت ہے اور وہی اس کے انتظام و انصرام کا واحد مجاز ادارہ ہے۔

زیدان نے اس بات پر سخت تشویش کا اظہار کیا کہ اقصیٰ کو درپیش خطرات کے پیش نظر سنجیدہ اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قابض اسرائیل کو ایسی تاریخی مثالیں قائم کرنے کی ہرگز اجازت نہیں دی جانی چاہیے کہ وہ رمضان المبارک کے آخری عشرے میں مسلمانوں کے لیے اقصیٰ کے دروازے بند کر دے۔ مسجد پر قبضے کے بعد سے اب تک ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ آخری عشرے میں اسے بند کیا گیا ہو۔

زیدان نے القدس، فلسطین اور پوری امتِ مسلمہ سمیت علماء کرام کے شدید عوامی غم و غصے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوامی جذبات مسجد اقصیٰ کو فوری طور پر کھلوانے کے لیے اردن کی کسی بھی سیاسی تحریک کے لیے پشت پناہی ثابت ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ چونکہ مسجد کھولنے کا اصل اختیار اردنی اوقاف کے پاس ہے، اس لیے وہ خود مسجد کھولنے کا اعلان کرے اور نمازیوں کو وہاں جوق در جوق پہنچنے اور نماز ادا کرنے کی دعوت دے تاکہ وہ اپنے ان اختیارات اور کردار کو بحال کر سکے جنہیں قابض اسرائیل چھیننے کے درپے ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ایسی کسی بھی پکار پر پورے مقبوضہ فلسطین میں زبردست عوامی ردعمل سامنے آئے گا اور پوری اسلامی دنیا اس کا خیر مقدم کرے گی۔

یاد رہے کہ صہیونی ریاست نے ہفتہ 28 فروری سنہ 2026ء کو ایران پر اسرائیلی امریکہ جارحیت کے آغاز کے ساتھ ہی نام نہاد عوامی سلامتی کا بہانہ بنا کر مسجد اقصیٰ کو بند کر دیا تھا اور آج مسلسل بارہویں روز بھی یہ تالہ بندی برقرار ہے۔

قابلِ ذکر ہے کہ اردن کی حکومت نے آج پہلی بار مسجد کی بندش کے خلاف واضح سیاسی موقف اختیار کرتے ہوئے اسے فوری کھولنے کا مطالبہ کیا ہے۔ یہ مطالبہ وزارتِ خارجہ کے ترجمان سفیر فؤاد المجالی کے ایک بیان کے ذریعے سامنے آیا، جس کا القدس انٹرنیشنل فاؤنڈیشن نے خیر مقدم کیا ہے۔ فاؤنڈیشن نے تاکید کی ہے کہ مسجد اقصیٰ پر اس جارحیت کی سنگینی کا تقاضا ہے کہ اس تحریک کو اعلیٰ ترین سیاسی سطح تک لے جایا جائے۔

دوسری جانب وزیر اوقاف ڈاکٹر محمد الخلايلة نے بھی اس حقیقت پر زور دیا کہ مسجد کی بندش کا قابض اسرائیل کا یہ ظالمانہ فیصلہ غیر قانونی ہے اور اسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا عوامی سلامتی کے ان دعووں سے کوئی تعلق نہیں ہے جن کا بہانہ قابض اسرائیل تراش رہا ہے۔

الخلايلہ نے مزید کہا کہ یہ بندش مسجد اقصیٰ پر قابض اسرائیل کی جارحیت کا حصہ ہے جس کا مقصد القدس میں اسلامی اوقاف اور وہاں اردن کے تاریخی کردار کو نشانہ بنانا ہے۔ انہوں نے مسجد کو کھولنے اور اس کی شناخت کے تحفظ کے لیے بھرپور جدوجہد کی ضرورت پر زور دیا اور اردن کے اس پختہ موقف کا اعادہ کیا کہ مسجد اقصیٰ اپنے تمام 144 ہزار مربع میٹر رقبے کے ساتھ صرف اور صرف مسلمانوں کا مقدس مقام ہے۔

Tags: AlAqsaIslamicHeritageisraelIsraeliOccupationjerusalemJordanJordanianAwqafMiddleEastConflictMosqueClosurePalestinianRights
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.