• Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2
منگل 7 اپریل 2026
  • Login
Roznama Quds | روزنامہ قدس
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
  • صفحہ اول
  • فلسطین
  • حماس
  • غزہ
  • پی ایل او
  • صیہونیزم
  • عالمی یوم القدس
  • عالمی خبریں
  • پاکستان
  • رپورٹس
  • مقالا جات
  • مکالمہ
No Result
View All Result
Roznama Quds | روزنامہ قدس
No Result
View All Result
Home خاص خبریں

مسجد اقصیٰ کی تالا بندی: القدس کی شناخت مٹانے کی خطرناک سازش

مسجد اقصیٰ کی تالا بندی کو خود مختاری پر حملہ اور القدس کے دینی و سماجی تشخص کو مٹانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔

منگل 07-04-2026
in خاص خبریں, صیہونیزم
0
مسجد اقصیٰ کی تالا بندی: القدس کی شناخت مٹانے کی خطرناک سازش
0
SHARES
0
VIEWS

مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مسجد اقصیٰ کی حالیہ تالا بندی اب محض کوئی ہنگامی سیکیورٹی واقعہ یا وقتی دفاعی اقدام نہیں رہا جسے قابض اسرائیل کی جانب سے ماضی کی طرح ہنگامی حالات کے کھاتے میں ڈال دیا جائے، بلکہ یہ القدس پر قبضے کی جنگ میں ایک گہری اور خطرناک تبدیلی کا اشارہ ہے۔ یہ اس نئے تعلق اور ضابطے کا پیش خیمہ ہے جسے غاصب صہیونی دشمن ریاست دنیا کے حساس ترین مذہبی اور سیاسی مقام پر زبردستی مسلط کرنا چاہتی ہے۔

اس وحشیانہ تالا بندی کے نتیجے میں لاکھوں مسلمان نماز کی ادائیگی سے محروم کر دیے گئے، جن میں ماہ رمضان کے جمعتہ المبارک اور عید الفطر کے اجتماعات بھی شامل تھے۔ یہ محض ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ براہ راست مسلمانوں کی دینی خود مختاری پر حملہ ہے، جس کا مقصد مسجد اقصیٰ کے تاریخی تشخص کو تبدیل کرنا اور خطے کے بگڑتے ہوئے حالات کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد کی تکمیل کرنا ہے۔

جب فروری سنہ 2026ء کے اواخر میں قابض اسرائیلی حکام نے مسجد اقصیٰ کی بندش کا اعلان کیا تو اسے ایران کے خلاف امریکی وصہیونی جارحیت سے پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال سے جوڑا گیا۔ تاہم ایک ماہ سے زائد عرصہ بیت جانے کے باوجود مسجد کو کھولنے کے کوئی آثار دکھائی نہیں دیتے، جو اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ یہ کوئی عارضی اقدام نہیں بلکہ ایک مستقل اور سنگین سازش ہے۔

مختلف میڈیا پلیٹ فارمز کے تجزیوں کے مطابق، قابض اسرائیل اس علاقائی کشیدگی اور عالمی جنگی مصروفیات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے القدس پر اپنی گرفت مضبوط کرنا چاہتا ہے۔ یہ وہی پرانا صہیونی طریقہ واردات ہے کہ بڑے بحرانوں کی آڑ میں ایسی تبدیلیاں لائی جائیں جن سے بعد میں واپسی ممکن نہ رہے۔

مسجد اقصیٰ کی تولیت سے قبضے تک کا سفر

اگرچہ مسجد اقصیٰ نے ماضی میں بھی بندشیں دیکھی ہیں، لیکن حالیہ تالا بندی کا دورانیہ اور اس کی وسعت اسے پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک بنا دیتی ہے۔ ماضی میں قابض اسرائیل محض داخلے پر پابندی یا عمر کی حد مقرر کرتا تھا، لیکن مکمل اور طویل بندش کے واقعات شاذ و نادر ہی پیش آئے۔

القدس گورنری کے اعداد و شمار کے مطابق، سنہ 1967ء میں القدس پر قبضے کے بعد سے اب تک جمعہ کے روز مسجد کو پانچ مرتبہ مکمل بند کیا گیا ہے:

1۔ 9 جون سنہ 1967ء: القدس پر قبضے کے دو دن بعد، جب قابض افواج مسجد کے اندر موجود تھیں۔
2۔ 14 جولائی سنہ 2017ء: مسجد کے اندر فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد، جب الیکٹرانک گیٹ نصب کرنے کی کوشش کی گئی تھی، جسے عوامی مزاحمت کے سامنے دو ہفتوں بعد ختم کرنا پڑا۔
3۔ 13 جون سنہ 2025ء: ایران کے خلاف 12 روزہ جارحیت کے دوران جب نمازیوں کو باہر نکال کر مسجد بند کر دی گئی۔
4۔ 20 جون سنہ 2025ء: سابقہ بندش کے تسلسل میں۔
5۔ 6 مارچ سنہ 2026ء: ایران پر امریکی وصہیونی حملے کے ساتویں روز۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تالا بندی کو ایک "بار بار دہرائے جانے والے ہتھیار” میں تبدیل کرنا انتہائی خطرناک ہے، کیونکہ اس سے مستقبل میں مسجد کو صہیونی ایجنڈے کے تحت دبائو ڈالنے کے لیے استعمال کرنے کی راہ ہموار ہوگی۔

مذہبی سطح پر یہ تالا بندی عبادت کی آزادی پر براہ راست حملہ ہے۔ مسجد اقصیٰ کے خطیب شیخ عکرمہ صبری نے واضح کیا کہ شرعی طور پر مسجد کی بندش کا کوئی جواز نہیں اور اسے کسی سکیورٹی بہانے سے جائز قرار نہیں دیا جا سکتا۔ یہ بین الاقوامی قوانین کی بھی سنگین خلاف ورزی ہے جو ہر انسان کو اس کی عبادت گاہ تک رسائی کا حق دیتے ہیں۔

سب سے تشویشناک پہلو یہ ہے کہ قابض اسرائیل اس طرح محکمہ اوقاف کے کردار کو بتدریج ختم کر کے مسجد کا انتظام براہ راست اپنی سکیورٹی فورسز کے ہاتھ میں لینا چاہتا ہے۔ شیخ صبری کے بقول: "اس مسلسل بندش کا مطلب یہ ہے کہ قابض اسرائیل اقصیٰ کو ایک اسلامی مقام کے بجائے اپنی مکمل خود مختاری کے تحت علاقہ سمجھ کر سلوک کر رہا ہے”۔

عالمی قوانین اور تاریخی حقائق کی پامالی

تاریخی اور سیاسی طور پر مسجد اقصیٰ کے لیے "اسٹیٹس کو” یا "موجودہ صورتحال” کے نام سے ایک پیچیدہ نظام موجود تھا جو مسلمانوں کے حق عبادت کی ضمانت دیتا تھا۔ بیر زیٹ یونیورسٹی کے لیکچرر وائل عواد کا کہنا ہے کہ جنیوا کنونشنز قابض قوت کو اس بات کا پابند بناتے ہیں کہ وہ مقامی آبادی کو ان کی عبادت گاہوں تک رسائی فراہم کرے، مگر یہاں صورتحال بالکل الٹ ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب دیگر مساجد میں نمازیں باقاعدگی سے ہو رہی ہیں تو صرف مسجد اقصیٰ کو ہی کیوں نشانہ بنایا جا رہا ہے؟ مروانی مصلیٰ جیسے زیر زمین محفوظ مقامات پر بھی اعتکاف سے کیوں روکا جا رہا ہے؟ سیاسی مبصرین کا خیال ہے کہ یہ سب "گریٹر اسرائیل” کے خواب کی تکمیل اور مرحلہ وار قبضے کی پالیسی کا حصہ ہے۔

بیت المقدس کے امور کے ماہر پروفیسر عبداللہ معروف کا کہنا ہے کہ سنہ 1967ء کی جنگ کے بعد سے مسجد اقصیٰ کے حوالے سے کیے گئے معاہدوں میں مسلسل صہیونی مداخلت نے "اسٹیٹس کو” کو عملاً ختم کر دیا ہے۔ القدس کی زمینوں پر غیر قانونی بستیوں کی تعمیر، حارۃ المغاربہ کا مکمل انہدام اور وہاں کے باسیوں کی جبری بے دخلی، اور دیوار براق پر قبضہ اس کی واضح مثالیں ہیں۔ اس کے علاوہ مسجد کے نیچے کھدائیاں اور سرنگوں کی تعمیر نے اس کی بنیادوں کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

دیوار و بستی مخالف مزاحمتی کمیشن کی رپورٹیں بتاتی ہیں کہ سنہ 2022ء سے سنہ 2023ء کے دوران صہیونی بجٹ کا بڑا حصہ القدس کے گرد میوزیم اور کیبل کار جیسے منصوبوں پر خرچ کیا گیا تاکہ پرانے شہر کا گھیرا تنگ کیا جا سکے۔ اب سنہ 2024ء اور سنہ 2025ء میں یہ سلسلہ بڑھ کر تلمودی رسومات کی علانیہ ادائیگی اور فلسطینیوں کے داخلے پر سخت پابندیوں تک پہنچ چکا ہے۔ یہ بالکل وہی ماڈل ہے جو الخلیل میں حرم ابراہیمی پر مسلط کیا گیا تھا، جہاں مسلح طاقت کے ذریعے مسلمانوں کا حق چھین کر یہودیوں کو مستقل جگہ دی گئی۔

القدس کے سماجی ڈھانچے کی تباہی

مسجد اقصیٰ کی بندش صرف ایک مذہبی مسئلہ نہیں بلکہ یہ القدس کے پورے سماجی ڈھانچے کو تتر بتر کرنے کی سازش ہے۔ مسجد القدس کے باسیوں کے لیے روزمرہ زندگی کا مرکز ہے، اور اس مرکز کی غیر موجودگی کا مطلب فلسطینیوں کی عوامی زندگی کا خاتمہ ہے۔

کالم نگار علی ابراہیم کے مطابق، اقصیٰ القدس کا "دھڑکتا ہوا دل” ہے۔ شہر کو دیواروں اور چیک پوسٹوں کے ذریعے اس کے گردونواح سے کاٹ دینے کے بعد، اقصیٰ ہی وہ واحد جگہ تھی جہاں سماجی، ثقافتی اور علامتی روابط جڑے ہوئے تھے۔ تالا بندی کے ذریعے قابض اسرائیل درج ذیل اہداف حاصل کرنا چاہتا ہے:

1۔ "وجود کا عدم تحفظ”: بار بار کی بندش سے فلسطینیوں کے اندر یہ احساس پیدا کرنا کہ وہ اپنے مقدس مقامات کے تحفظ سے قاصر ہیں، تاکہ وہ اپنے ہی شہر میں خود کو اجنبی محسوس کرنے لگیں۔
2۔ نفسیاتی شکست: یہ پیغام دینا کہ القدس میں فلسطینیوں کی موجودگی عارضی اور کمزور ہے، اور انہیں کسی بھی وقت بے دخل کیا جا سکتا ہے۔
3۔ "وقت کی عسکریت پسندی”: رمضان اور عید جیسے خوشی اور یکجہتی کے مواقع کو خوف، چھاپوں اور رکاوٹوں کے ذریعے قمع اور تناؤ میں بدل دینا تاکہ معاشرے کی نفسیاتی قوت کو کمزور کیا جا سکے۔
4۔ سماجی روابط کا خاتمہ: اقصیٰ اور ریڈ کراس کے ذریعے سہولت پانے والے دیگر مقامات خاندانوں کے ملنے کی جگہ تھے، جن کی بندش سے سماجی روابط ٹوٹ رہے ہیں اور معیشت تباہ ہو رہی ہے۔

خود مختاری کی جنگ اور مستقبل کا منظرنامہ

سیاسی طور پر مسجد کی بندش ایک واضح پیغام ہے کہ قابض اسرائیل القدس پر اپنی مکمل حاکمیت کا دعویٰ کر رہا ہے۔ بیت المقدس کے امور کے ماہر زیاد بحیص کا کہنا ہے کہ سنہ 2026ء میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض سکیورٹی اقدام نہیں بلکہ مسجد کے خلاف ایک سوچی سمجھی "جنگ” ہے، جس کا مقصد اسے ایک فوجی علاقے میں تبدیل کرنا ہے۔

صہیونی انتہا پسند اب مرحلہ وار قبضے کے بجائے نتائج کے حصول میں جلدی کر رہے ہیں، جس میں مسجد کے اندر جانوروں کی قربانی کی کوششیں اور اسے مکمل طور پر ہیکل میں تبدیل کرنے کے خواب شامل ہیں۔

مؤسسہ الدراسات الفلسطينية کی ایک رپورٹ "مآذن کی خاموشی: اقصیٰ کی چوکھٹ پر نماز کی بلاغت” کے مطابق، سنہ 2023ء میں اسرائیل کی پالیسی "کنٹرول اور نگرانی” کی تھی، مگر سنہ 2026ء میں یہ "مکمل تالا بندی” میں بدل چکی ہے۔ غاصب دشمن ایران کے ساتھ علاقائی جنگ کا فائدہ اٹھا کر القدس میں ایک ایسی حقیقت مسلط کرنا چاہتا ہے جہاں مسجد کا کھلنا یا بند ہونا مکمل طور پر صہیونی سکیورٹی کی مرضی پر منحصر ہو۔

تحقیقی ماہر احمد عزالدین کا کہنا ہے کہ یہ صورتحال کسی بھی وقت ایک بڑے دھماکے یا بڑے پیمانے پر سول نافرمانی کو جنم دے سکتی ہے۔ مآذن کی خاموشی کا مطلب گلیوں اور عوام کی خاموشی نہیں ہے۔ القدس کی بغاوت کا شور بارود اور نسل کشی کی آواز سے کہیں زیادہ بلند ہے۔

سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ اس تالا بندی کو ایک مستقل روایت بنا دیا جائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم جنگ کے سائے میں محض ایک عارضی مرحلے سے گزر رہے ہیں یا یہ القدس پر قبضے کی حتمی اور مستقل شکل ہے؟ جواب فلسطینی عوام کی مزاحمت اور عالمی ضمیر کے بیدار ہونے میں چھپا ہے۔

Tags: Al-Aqsa MosqueHoly SitesIsraeli restrictionsjerusalemMiddle East TensionPalestinian RightsReligious Freedomالاحتلال الإسرائيلي
ShareTweetSendSend

ٹوئیٹر پر فالو کریں

Follow @roznamaquds Tweets by roznamaquds

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In
No Result
View All Result
  • Newsletter
  • صفحہ اول
  • صفحہ اول2

© 2019 Roznama Quds Developed By Team Roznama Quds.