مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) عرب اور اسلامی اداروں نے مسجد اقصیٰ کی مسلسل بندش کے خلاف اور اس کی نصرت و حفاظت کے لیے سرکاری و عوامی کردار کو متحرک کرنے کی خاطر ’مسجد اقصیٰ دہائی دے رہی ہے‘ کے عنوان سے ایک بین الاقوامی مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔
منتظمین نے واضح کیا ہے کہ یہ مہم بدھ کے روز یکم اپریل سنہ 2026 ءسے شروع ہو کر اسی ماہ کی نو تاریخ تک جاری رہے گی۔ اس مربوط بین الاقوامی تحریک کا مقصد مسجد اقصیٰ کو درپیش بڑھتی ہوئی سنگین خلاف ورزیوں پر روشنی ڈالنا ہے۔
بیان میں بتایا گیا ہے کہ سنہ 2026 ءاپریل کی دو تاریخ کو ترکیہ کے شہر استنبول میں ایک مرکزی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں مختلف اداروں اور شخصیات سے بھرپور شرکت کی اپیل کی گئی ہے۔
مہم کے منتظمین نے اس بات پر زور دیا کہ اس کے مقاصد میں عوامی شعور کو بیدار کرنا، امت مسلمہ کو خواب غفلت سے جگانا، مسجد اقصیٰ کی نصرت کے لیے اداروں اور شخصیات کے کردار کو فعال کرنا، اہل قدس کی استقامت کی حمایت کرنا، صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرنا اور مظالم رکوانے کے لیے عالمی دباؤ میں اضافہ کرنا شامل ہے۔
اس مہم کا آغاز ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب قابض اسرائیل کی اتھارٹی نے مسلسل اکتیسویں روز بھی مسجد اقصیٰ کو بند کر رکھا ہے، جبکہ دوسری جانب یہودیوں کا تہوار فصح قریب ہے اور اس کے صحنوں میں قربانیاں ذبح کرنے کی دھمکیاں بھی شدت اختیار کر رہی ہیں۔
اسی تناظر میں ویب سائٹ مڈل ایسٹ آئی نے رپورٹ دی ہے کہ قابض اسرائیل کی پولیس نے اسلامی اوقاف کے محکمے کو مطلع کیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کی بندش میں سنہ 2026 اپریل کی 15 تاریخ تک توسیع کر دی گئی ہے، حالانکہ اس کا جواز صرف قدیم شہر کے اندر عوامی سلامتی بتایا گیا ہے۔
قابض اسرائیل کی افواج نے مقبوعہ القدس کے قدیم شہر میں داخلے پر سخت پابندیاں عائد کر دی ہیں، جس کے نتیجے میں سینکڑوں اہل قدس سڑکوں اور دروازوں پر نماز ادا کرنے پر مجبور ہیں، جبکہ بعض علاقوں میں تو نماز پڑھنے پر بھی تعاقب اور پابندی کا سامنا ہے۔
یہ صورتحال ایک ایسے وقت میں پیدا ہوئی ہے جب ہیکل کی انتہا پسند جماعتوں کی جانب سے 2 سے 9 اپریل کے درمیان عبرانی فصح کے دوران مسجد اقصیٰ پر دھاوے بولنے کی اپیلیں عروج پر ہیں اور خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ وہ وہاں فصح کی قربانی کی رسومات مسلط کرنے کی کوششیں کریں گے۔
ایک غیر معمولی اور اشتعال انگیز واقعے میں ایک انتہا پسند نے مصنوعی ذہانت کی ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں مسجد اقصیٰ کے اندر قربانی پیش کرنے کا منظر دکھایا گیا ہے۔ یہ ویڈیو اس مہم کا حصہ ہے جو ماہ رمضان سے جاری ہے۔
مبصرین کے مطابق یہ گروہ اس بندش کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ مسجد کا انتظام اسلامی اوقاف سے چھین کر نام نہاد ہیکل مینجمنٹ کے حوالے کر دیا جائے، تاکہ مسجد اقصیٰ میں زمانی اور مکانی تقسیم کا ایجنڈا مسلط کیا جا سکے۔
اس کے متوازی، اسرائیلی کنيست کے اندر ایسی قانون سازی کو تیزی سے منظور کروانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں جو ربیوں کو مقدس مقامات کے انتظام میں وسیع اختیارات فراہم کرے، جبکہ زمینی سطح پر دھاووں میں تیزی اور اقصیٰ کے صحنوں میں مذہبی رسومات مسلط کرنے کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔