مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) القدس کی اعلیٰ اسلامی کونسل نے مسلمانوں سے قبلہ اول مسجد اقصیٰ میں رباط اور لیلۃ القدر کے بھرپور اہتمام کی اپیل کی ہے، باوجود اس کے کہ قابض اسرائیل کی افواج نے گذشتہ کئی روز سے مسجد کو بند کر رکھا ہے اور نمازیوں کے داخلے پر ظالمانہ پابندی عائد کر رکھی ہے۔
کونسل نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ قابض اسرائیل نے 21 رمضان المبارک کی فجر سے ہی مسجد اقصیٰ کو بند کر رکھا ہے اور مسلمان نمازیوں کے داخلے پر پہرے بٹھا دیے ہیں۔ بیان میں اسے مقدس ترین اسلامی شعائر پر سنگین حملہ اور عبادت کی آزادی پر قدغن قرار دیا گیا۔
بیان میں مزید واضح کیا گیا کہ اس سفاکانہ بندش کی وجہ سے رمضان المبارک کے دوران مسلسل دو مرتبہ مسلمانوں کو مسجد اقصیٰ میں جمعہ کی نماز ادا کرنے سے روکا گیا۔ پہلا واقعہ 17 رمضان سنہ 2026ء بمطابق 6 مارچ کو پیش آیا اور دوسرا 24 رمضان سنہ 2026ء بمطابق 13 مارچ کو، جو گذشتہ کئی برسوں کے دوران ایک خطرناک ترین صیہونی اقدام ہے۔
اعلیٰ اسلامی کونسل نے ستائیسویں شب یعنی لیلۃ القدر کی بیداری اور اس کی برکات سمیٹنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ قابض اسرائیل کی تمام تر رکاوٹوں کے باوجود رباط کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور اپنے دینی شعائر پر سختی سے کاربند رہنا چاہیے۔
کونسل نے فلسطینیوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے کہا کہ اگر کسی مسلمان کو مسجد اقصیٰ تک پہنچنے سے روک دیا جائے تو وہ اسی مقام پر نماز ادا کر لے جہاں اسے روکا گیا ہو، اسے ان شاء اللہ مسجد اقصیٰ ہی میں نماز پڑھنے کا مکمل اجر ملے گا۔