مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) اسلامی تحریک مزاحمت حماس نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کی بندش میں اپریل کے وسط تک توسیع کا اعلان اس کی بدنیتی کو ظاہر کرتا ہے۔ حماس کا کہنا ہے کہ قابض دشمن موجودہ حالات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے مسجد اقصیٰ پر اپنی مکمل حاکمیت مسلط کرنا چاہتا ہے تاکہ وہ اپنے یہود سازی کے منصوبوں کے مطابق مسجد کو کھولنے اور بند کرنے کے فیصلے خود کر سکے۔
حماس نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ اقصیٰ پر قبضے کے بعد سے اب تک کی یہ غیر معمولی بندش کوئی سکیورٹی اقدام نہیں ہے جیسا کہ قابض اسرائیل دعویٰ کر رہا ہے بلکہ یہ مسجد کو نمازیوں سے خالی کرنے کے لیے ایک سوچا سمجھا قدم ہے۔ اس کا مقصد قابض اسرائیلی آباد کاروں کی یلغار کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنا اور نام نہاد ہیکل سلیمانی کے گروہوں کے مذموم منصوبوں کو عملی جامہ پہنانا ہے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ کے خلاف جو کچھ ہو رہا ہے وہ مسلمانوں کے عقیدے اور ان کے مقدسات پر براہ راست حملہ ہے۔ یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ قابض دشمن تمام عرب، اسلامی اور یہاں تک کہ بین الاقوامی مذمتوں اور مطالبات کو پس پشت ڈال کر اپنے غرور اور توسیع پسندانہ منصوبوں پر عمل پیرا ہے۔
حماس نے آنے والے مرحلے کی سنگینی سے خبردار کیا ہے، خاص طور پر عبرانی تہواروں کے دوران اقصیٰ پر دھاوے بولنے کی بڑھتی ہوئی اپیلوں اور وہاں تلمودی رسومات تھوپنے کی کوششوں کے حوالے سے انتباہ جاری کیا گیا ہے۔
حماس نے فلسطینی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ، اس کے دروازوں اور جہاں تک ممکن ہو سکے قریبی مقامات تک پہنچنے کے لیے رخت سفر باندھیں اور ہر ممکن طریقے سے وہاں اپنی موجودگی کو مضبوط بنائیں۔ ساتھ ہی امت مسلمہ اور عرب دنیا سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مسجد اقصیٰ کے خلاف اس کی جدید تاریخ کے خطرناک ترین حملے کے پیش نظر اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔