مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی افواج نے ایران کے ساتھ جاری جنگ سے وابستہ سکیورٹی حالات کا بہانہ بنا کر مسجد اقصیٰ کو مسلسل گیارہویں روز بھی بند کر رکھا ہے اور نمازیوں کو وہاں نماز کی ادائیگی سے روک دیا ہے۔
رمضان المبارک کے آخری عشرے کے دوران مسجد کی مسلسل بندش ایک خطرناک مثال ہے کیونکہ سنہ 1967ء میں القدس پر قبضے کے بعد یہ پہلی بار ہوا ہے کہ مسجد اقصیٰ کے اندر نمازِ تراویح اور اعتکاف پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
قابض حکام نے مسجد اقصیٰ پر اپنا کنٹرول سخت کر رکھا ہے اور حرم قدسی کے صحنوں میں مذہبی اور تاریخی حقائق کو تبدیل کرنے کے اپنے منصوبوں کی مخالفت کرنے والی کسی بھی عوامی تحریک پر کڑی پابندیاں عائد کر دی ہیں۔
دوسری جانب القدس گورنری نے مسجد اقصیٰ کی بندش کے اقدامات کے سائے میں نام نہاد انتہا پسند ہیکل تنظیموں کی قیادت میں مسجد کے خلاف اشتعال انگیز مہم میں خطرناک اضافے پر خبردار کیا ہے۔
گورنری نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے اسے قابض حکام کے دعووں کے مطابق محض عارضی سکیورٹی اقدامات قرار نہیں دیا جا سکتا بلکہ یہ ایک باقاعدہ سیاسی اور نظریاتی راستے کا حصہ ہے جس کا مقصد مسجد اقصیٰ کے قائم مذہبی، تاریخی اور قانونی تشخص کو تبدیل کرنا ہے۔
قابض اسرائیلی افواج نے نمازیوں کے لیے مسجد اقصیٰ کی مکمل بندش کے ساتھ ساتھ القدس شہر کے علاقے باب العامود کو بھی سخت ترین اقدامات کے تحت بند کر رکھا ہے۔
القدس گورنری کے مطابق قابض حکام نے علاقے میں دکان داروں کو اپنی دکانیں بند کرنے پر مجبور کر دیا، یہ کارروائی اس وقت کی گئی جب نوجوانوں کے ایک گروپ نے وہاں سے گزرنے والے افراد میں افطار کے کھانے تقسیم کیے تھے۔
اسی طرح تمام مصلیٰ جات اور صحنوں کو بھی بند کر دیا گیا ہے جس نے القدس کے اس دھڑکتے ہوئے دل کو ایک خاموش اور ویران جگہ میں تبدیل کر دیا ہے اور اہل القدس سمیت تمام فلسطینیوں کو رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف اور مذہبی شعائر کی ادائیگی سے محروم کر دیا گیا ہے۔
مقدسیوں نے اس اقدام کو مذہبی حقوق پر کھلی جارحیت اور اس تاریخی روایت کو توڑنے کی کوشش قرار دیا ہے جسے فلسطینی نسل در نسل برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ قابض اسرائیل رمضان المبارک کے آغاز سے ہی سکیورٹی کے بہانوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے فلسطینیوں کی نقل و حرکت کو محدود کر رہا ہے اور بہت سے لوگوں کو القدس میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے، جبکہ جمعہ کے روز نمازیوں کی تعداد کو حقیقت سے بہت کم سطح پر محدود کر دیا گیا، جہاں صرف چھ ہزار افراد کو داخلے کی اجازت دی گئی۔
مقامی ذرائع نے اسرائیلی اقدامات میں واضح تضاد کو نوٹ کیا ہے کہ ایک طرف فلسطینیوں کو نماز اور اعتکاف سے محروم رکھا جا رہا ہے، جبکہ دوسری طرف آباد کاروں کو مسجد کے دروازوں کے گرد سخت سکیورٹی حصار میں اپنے مذہبی اور سیاسی اجتماعات منعقد کرنے کی مکمل چھوٹ دی گئی ہے۔
قابض حکام نے ایران کے ساتھ جنگ چھڑنے کے بعد بھی پرانے شہر اور دیوارِ براق پر آباد کاروں کو اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کی اجازت دے رکھی ہے، جس میں گذشتہ ہفتے ہونے والا اجتماع بھی شامل ہے جس میں تقریباً پچاس افراد نے شرکت کی تھی۔