مقبوضہِ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطین کے ایک آزاد انسانی حقوق کے ادارے مرکز معلومات فلسطین معطیٰ نے جنوری 2026ء کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیل کی فوج اور صہیونی آبادکاروں کی جانب سے انجام دی جانے والی سنگین خلاف ورزیوں اور جرائم کو دستاویزی شکل دی ہے۔
مرکز نے جمعرات کے روز جاری کردہ اپنی رپورٹ میں بتایا کہ اس عرصے کے دوران مجموعی طور پر 6785 صہیونی خلاف ورزیاں ریکارڈ کی گئیں جن کے نتیجے میں 6 فلسطینی شہید ہوئے جبکہ 201 افراد مختلف نوعیت کے زخموں سے دوچار ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق فلسطینیوں کو نشانہ بنانے کے لیے فائرنگ کے 303 واقعات بھی درج کیے گئے۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ قابض اسرائیل کی افواج نے غرب اردن کے فلسطینی شہروں ، دیہات اور مہاجر کیمپوں میں 1344 چھاپہ مار اور دراندازی کی کارروائیاں انجام دیں جن کے دوران گھروں اور ان کے سامان کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا۔
مرکز معطیٰ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر ہونے والی ان یلغاروں کے دوران 779 فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ 273 مکانات اور تنصیبات مسمار کی گئیں جن میں 32 گھروں کو مکمل طور پر زمین بوس کر دیا گیا۔
رپورٹ میں یہ بھی نشاندہی کی گئی کہ مغربی کنارہ اور مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف علاقوں میں صہیونی آبادکاری کے توسیعی منصوبوں پر عمل درآمد جاری رہا جہاں 61 آبادکاری سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں۔ ان سرگرمیوں میں فلسطینی زمینوں کی ضبطی اور ہمواری نئی آبادکاری سڑکوں کی تعمیر اور اضافی صہیونی رہائشی یونٹس کی منظوری شامل ہے۔
مرکز نے توجہ دلائی کہ غزہ پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز یعنی سنہ 2023ء کے اکتوبر سے اب تک مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قابض اسرائیل کی فوج اور صہیونی آبادکاروں کی جارحیت میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ فلسطینی اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق اس دوران کم از کم 1110 فلسطینی شہید ہوئے تقریباً 11 ہزار افراد زخمی ہوئے اور لگ بھگ 21 ہزار فلسطینیوں کو گرفتار کیا گیا۔