مقبوضہ مغربی کنارہ – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) مرکز برائے دفاعِ اسیرانِ فلسطین نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قابض اسرائیل کی جیلوں کے اندر جاری جابرانہ اقدامات کی شدت کے باعث، رواں ماہِ رمضان تحریکِ آزادی کے اسیران کے لیے گذشتہ چار دہائیوں کا مشکل ترین دور ثابت ہو رہا ہے۔
مرکز نے ایک بیان میں وضاحت کی ہے کہ اسیران کو اس ماہِ مقدس کے دوران غیر معمولی اور سنگین حالات کا سامنا ہے، جن میں سب سے نمایاں سحری کے کھانوں کی باقاعدہ عدم فراہمی اور افطار کے کھانوں میں مقررہ وقت سے کئی کئی گھنٹے کی تاخیر ہے، جو روزہ دار اسیران کی تکلیف میں اضافے اور ان کی صحت پر منفی اثرات کا باعث بن رہا ہے۔
بیان میں مذہبی شعائر کی ادائیگی پر عائد سخت پابندیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کئی حصوں میں باجماعت نماز اور نمازِ تراویح کی ادائیگی پر پابندی عائد ہے، جبکہ قرآن کریم کی فراہمی میں بھی رکاوٹیں کھڑی کی جا رہی ہیں، جو کہ آزادیِ عبادت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
مرکز نے واضح کیا کہ طبی غفلت، ادویات کی قلت اور ناقص غذا کے نتیجے میں بیمار اسیران کی حالت مزید ابتر ہوتی جا رہی ہے، جس سے ان کی زندگیاں حقیقی خطرات سے دوچار ہیں، خاص طور پر قید خانوں کے اندر صحت کی بگڑتی ہوئی صورتحال نے تشویش پیدا کر دی ہے۔
بیان میں اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی گئی کہ رمضان کے دوران اسیران کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں "بوسطہ” کے ذریعے ان کے مصائب میں مزید اضافہ کر دیا گیا ہے، جہاں وہ روزے کی حالت اور اپنی صحت کی پرواہ کیے بغیر کٹھن حالات میں طویل گھنٹے گزارنے پر مجبور ہیں۔
مزید برآں ان اقدامات کے اثرات اسیران کے اہل خانہ تک بھی پھیل چکے ہیں، جو ملاقاتوں اور رابطوں پر پابندی کے باعث شدید اضطراب اور محرومی کے عالم میں رمضان گزار رہے ہیں، جس سے قید و بند کے انسانی المیے کی شدت مزید بڑھ گئی ہے۔
مرکز نے زور دے کر کہا کہ یہ تمام ممارست انسانی حقوق اور مذہبی آزادی کی سنگین پامالی ہیں، لہٰذا عالمی برادری اور انسانی حقوق کے اداروں کو چاہیے کہ وہ فوری مداخلت کریں اور فلسطینی اسیران کے خلاف ان خلاف ورزیوں کو رکوانے کے لیے دباؤ ڈالیں۔