قابض صہیونی فوج کی جانب سے غزہ میں جاری قتل و غارت گری کے باوجود اکئی عرب ممالک کی جانب سے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے خلاف سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔
(روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض صہیونی فوج کی جانب سے غزہ میں جاری قتل و غارت گری کے باوجود اکئی عرب ممالک کی جانب سے فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس کے خلاف سرگرمیوں میں تیزی آگئی ہے۔ غاصب ریاست-فلسطین تنازع کے دو ریاستی حل کی بحالی کے مقصد سے منعقدہ کانفرنس کے تناظر میں شائع کیا گیا۔ بیانیے کی سات صفحات پر مشتمل تفصیل کو سترہ ممالک اور متعدد بین الاقوامی اداروں نے حمایت فراہم کی۔
رپورٹ کے مطابق مصر نہ صرف حماس کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ رکھتا ہے بلکہ اس کے بدلے میں ہی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کررہا ہے۔ اسی مقصد کے تحت مصری وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی ان دنوں امریکہ کے دورے پر ہیں جہاں وہ واشنگٹن میں متعلقہ حکام سے مشاورت کر رہے ہیں۔
دوسری جانب صہیونی ٹی وی چینل کان نے بھی اطلاع دی ہے کہ مصر، اردن، سعودی عرب، قطر، ترکی اور فرانس کی جانب سے ایک اور باضابطہ دستاویز اقوام متحدہ میں جمع کروائی گئی ہے جس پر نیویارک میں اقوام ِمتحدہ میں دو ریاستی حل کے تناظر میں ہونے والے ایک اجلاس کے دوران دستخط کیے گئے۔
اس دستاویز میں دو ریاستی حل پر زور دیا گیا ہے لیکن اصل مقصد حماس کو غزہ میں غیر مسلح کر کے فلسطینوں کو صہیونی حکومت کے مکمل حوالے کرنا ہے۔
یہ تمام سرگرمیاں ایسے وقت میں ہورہی ہیں جب قابض اسرائیل نے نہ صرف غزہ پر بمباری روکنے سے انکار کردیا ہے بلکہ جنگ بندی کی صورت میں بھی کسی قسم کی مستقل ضمانت دینے سے انکار کردیا ہے۔
اس تمام تر صورتحال میں امریکہ صہیونی مظالم کو سیاسی اور دفاعی پشت پناہی فراہم کر رہا ہے جب کہ عرب دنیا کے بعض کلیدی ممالک حماس کے خلاف عملی اقدامات کر رہے ہیں جس سے فلسطینی مزاحمت کو عالمی سطح پر مزید چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے۔