مقبوضہ بیت المقدس – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) قابض اسرائیلی افواج کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے داخلی راستوں اور گرد و نواح میں عائد کردہ سخت فوجی پابندیوں اور رکاوٹوں کے باوجود جمعہ کی شام تقریباً ایک لاکھ نمازیوں نے مقبوضہ بیت المقدس میں قبلہ اول کے صحنوں میں نماز عشاء اور تراویح ادا کی۔
بیت المقدس میں اسلامی اوقاف کے محکمے نے رپورٹ دی ہے کہ قابض دشمن کی جانب سے شہر میں داخلے پر لگائی گئی کڑی پابندیوں اور بڑی تعداد میں شہریوں، بالخصوص مغربی کنارہ سے آنے والے فلسطینیوں کو روکنے کے باوجود دسیوں ہزار عشاقانِ رسولﷺ مسجد تک پہنچنے اور نماز ادا کرنے میں کامیاب رہے۔
رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیل کے فوجیوں نے دوپہر کے وقت سے ہی ہزاروں نمازیوں کو مسجد اقصیٰ پہنچنے سے روک دیا تھا، جبکہ بیت المقدس کے شمال میں واقع قلندیا چیک پوسٹ اور بیت المقدس و بیت لحم کے درمیان حائل چیک پوسٹ 300 سے بڑی تعداد میں فلسطینیوں کو زبردستی واپس بھیج دیا گیا۔
یہ پابندیاں ایک ایسے وقت میں لگائی گئی ہیں جب قابض اسرائیل نے رمضان المبارک کے دوران نمازیوں کی آمد کو محدود کرنے کی مذموم کوشش کے تحت بیت المقدس، پرانے شہر کے گرد و نواح اور مسجد اقصیٰ کے دروازوں پر اپنی فوجی نفری میں غیر معمولی اضافہ کر رکھا ہے۔
علاوہ ازیں قابض اسرائیلی حکام نے گذشتہ چند دنوں کے دوران 300 سے زائد بیت المقدس کے مقامی رہائشیوں کو پورے ماہِ مقدس کے لیے مسجد اقصیٰ سے بے دخلی کے احکامات جاری کیے ہیں تاکہ انہیں عبادت کے حق سے محروم رکھا جا سکے۔