(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم نیتن یاہو کی جانب سے غزہ میں فوجی کارروائیوں سے متعلق ایک اعلان نے فوجی حلقوں میں شدید غصہ پیدا کر دیا ہے۔
نیتن یاہو نے واضح طور پر کہا: "ہم موراغ کاریڈور پر کنٹرول حاصل کر چکے ہیں، یہ محور ‘فلاڈلفیا’ (صلاح الدین) کوریڈور کا دوسرا حصہ ہوگا۔” یہ بیان فوجی سنسرشپ کی ہدایات کے برخلاف تھا، جس نے ایسی معلومات کے افشا کی ممانعت کی تھی۔
عبرانی اخبار "یسرائیل ہیوم” کے مطابق، نیتن یاہو کے اعلان سے پہلے، فوجی سنسرشپ نے "موراغ” کاریڈور پر جاری کارروائیوں کی تفصیلات شائع کرنے سے انکار کیا تھا۔ چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے بھی فوجی کارروائیوں کی رازداری کو یقینی بنانے پر زور دیا تھا۔ اخبار کے مطابق، سیکیورٹی ادارے اور فوج نیتن یاہو کے اس عمل پر اندرونی سطح پر بحث کریں گے۔
موراغ کاریڈور خانیونس اور رفح کے درمیان واقع ہے اور یہ اس صیہونی بستی کے نام پر ہے جو 2005ء میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے انخلاء سے قبل غزہ میں قائم تھی۔ فی الوقت، غزہ میں جاری نسل کشی کی جنگ میں تین بڑی فوجی بریگیڈز حصہ لے رہی ہیں: ریزرو فورس 252، غزہ بریگیڈ، اور بریگیڈ 36۔ صیہونی فوجی قیادت اس امر سے واقف ہے کہ ریزرو فوجیوں پر شدید دباؤ ہے اور انہیں مسلسل لڑائی میں جھونکا جا رہا ہے، اس لیے مزید فوجیوں کو بلانے سے حتیٰ الامکان گریز کیا جا رہا ہے۔
عبرانی اخبار کے مطابق، چیف آف اسٹاف کے مطابق، اس جارحیت کو روکنے کا واحد راستہ یرغمال صیہونیوں کی رہائی ہو سکتا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ اس وقت کی کارروائیاں حماس پر دباؤ ڈالنے اور عوامی احتجاج کو بڑھاوا دینے میں "کامیاب” ہو رہی ہیں۔
دوسری جانب سیکیورٹی اداروں کے مطابق وہ اب بھی سیاسی قیادت سے "جنگ کے بعد کے غزہ” سے متعلق واضح ہدایات کے منتظر ہیں۔ سیاسی رہنماؤں کی خاموشی فوجی آپریشن کی "کامیابی” کو متاثر کر سکتی ہے۔
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج نے آج صبح اعلان کیا ہے کہ اس نے شمالی غزہ میں زمینی کارروائی کو توسیع دی ہے اور شجاعیہ کے علاقے میں کارروائی کا آغاز کر دیا ہے۔ فوجی بیان کے مطابق، یہ قدم علاقے میں مزید کنٹرول حاصل کرنے اور دفاعی سکیورٹی زون کو وسعت دینے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔
بیان میں دعویٰ کیا گیا کہ کارروائی کے دوران کئی مزاحمت کاروں کو ہلاک کیا گیا اور "حماس کے زیر استعمال” ایک کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر سمیت کئی عسکری تنصیبات کو تباہ کیا گیا۔
صیہونی فوج کا دعویٰ ہے کہ کارروائی سے قبل مقامی شہریوں کو محفوظ انخلا کی ہدایات دی گئیں، حالانکہ حقائق اس کے برعکس ہیں، کیونکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جارحیت کے نتیجے میں مسلسل عام شہریوں کا قتل عام جاری ہے۔