(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے معروف عبرانی اخبار "معاریف” میں شائع ہونے والے ایک تجزیے میں یونیورسٹی آف حیفا کے پروفیسر اوری سلبرشید کا مضمون شائع کیا ہے جس میں صیہونی فوج کے نئے چیف آف اسٹاف، ایال ضمیر، کی تعیناتی پر سخت تنقید کی گئی ہے۔
ایال۔ضمیر کی تعیناتی کو صیہونی حکومت کی جانب سے جنگِ غزہ کے آغاز کے بعد لیا گیا واحد "منطقی فیصلہ” قرار دیا گیا ہے، لیکن اس کے ساتھ خدشات بھی ظاہر کیے گئے ہیں۔
سلبرشید کا کہنا ہے کہ نئے آرمی چیف کی فوجی پالیسی صیہونی وزیر اعظم کی سیاسی حکمتِ عملی کے مطابق ہو سکتی ہے، کیونکہ انہیں نیتن یاہو نے ذاتی طور پر اس عہدے کے لیے منتخب کیا ہے۔ خاص طور پر ان کی تقرری کی تقریب میں جنگِ غزہ جاری رکھنے اور تمام قیدیوں کی واپسی پر زور دیا گیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ نیتن یاہو کے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں گے۔
نیتن یاہو کی آمریت پر تنقید کرتے ہوئے، سلبرشید کا کہنا ہے کہ ایال ضمیر کی تعیناتی وزیرِ جنگ یسرائیل کاٹز کی "فرمانبرداری” کے ساتھ نیتن یاہو کے کنٹرول کو مضبوط کرے گی۔ مزید برآں، یہ بات قابل ذکر ہے کہ ضمیر 2012 سے 2015 تک نیتن یاہو کے فوجی سیکریٹری رہ چکے ہیں، اور ماضی میں بھی نیتن یاہو نے انہیں آرمی چیف بنانے کی کوشش کی تھی۔
سلبرشید کے مطابق، نیتن یاہو کا فوج کو سیاست سے الگ رکھنے کا مطالبہ حقیقت کے برعکس ہے، کیونکہ آمریت پسند حکومتیں فوج کو ایک کنٹرول شدہ آلہ کار کے طور پر استعمال کرتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایک پیشہ ور فوج کو غیر اخلاقی حکومت کے مفادات کی خدمت کرنے سے انکار کرنا چاہیے۔
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ ماضی میں نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے جوہری معاہدے سے نکلنے پر مجبور کیا، حالانکہ اسرائیلی فوج اس فیصلے کے خلاف تھی، کیونکہ اس سے ایران کو جوہری ریاست بننے کا موقع ملا۔
مزید برآں، مضمون میں کہا گیا ہے کہ نیتن یاہو کا منصوبہ جنگ کو طول دینا اور غزہ پر مکمل محاصرہ نافذ کرنا ہے، جس کے بعد وہ ایک انتہائی تباہ کن حملے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ یہ اقدامات نہ صرف اسرائیل کی ساکھ کو عالمی سطح پر مجروح کریں گے بلکہ یہودیوں کی مجموعی شناخت پر بھی منفی اثر ڈال سکتے ہیں۔
آخر میں، سلبرشید نے ضمیر پر زور دیا کہ وہ نیتن یاہو کے ان احکامات کو ماننے سے انکار کر دیں، کیونکہ یہ جنگ دفاع کے بجائے اسرائیلی ریاست کو مزید غیر مستحکم کر دے گی۔ اگر ضمیر نے اس جنگی حکمت عملی کے خلاف مزاحمت نہ کی، تو وہ یا تو معزول کر دیے جائیں گے یا تاریخ میں ایک غیر اخلاقی فوج کے سربراہ کے طور پر یاد رکھے جائیں گے۔