(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطین کی وزیر خارجہ، فارسین اغابیکیان، نے کہا ہے کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی یہ تجویز کہ غزہ کو ایک "پُرتعیش سیاحتی زون” میں تبدیل کیا جائے، تب تک ناقابل قبول ہے جب تک کہ یہ منصوبہ خود غزہ کے رہائشیوں کے لیے نہ ہو۔ اغابیکیان نے کہا: "غزہ کو ایک سیاحتی مقام میں تبدیل کرنا ایک شاندار خیال ہو سکتا ہے، لیکن اس کے حقیقی باشندوں کے ساتھ، نہ کہ ان کے بغیر۔”
اغابیکیان جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل سے خطاب کے بعد نامہ نگاروں کے ایک گروپ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ کی تجویز کے تحت، امریکہ غزہ پر کنٹرول حاصل کر کے اسے "مشرق وسطیٰ کے سیاحتی مقام” میں تبدیل کرنا چاہتا ہے، مگر اس منصوبے میں وہاں کے فلسطینی باشندوں کو بے دخل کرنے کی سازش شامل ہے۔
اغابیکیان نے اس پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ غزہ کے شہریوں کو جبری طور پر بے دخل کرنا کسی بھی معیار کے تحت ناقابل قبول ہے۔ انہوں نے مزید کہا: "اگر غزہ کے جغرافیہ میں تبدیلی کرنا ہے تو یہ اس کے عوام کے لیے ہونا چاہیے، جو کئی دہائیوں سے تکالیف سہہ رہے ہیں۔ انہیں ان کے گھروں سے نکال کر اس علاقے کو ویران کرنے کے بجائے ایک خوشحال جگہ میں تبدیل کرنا چاہیے۔”
اغابیکیان نے واضح کیا کہ غزہ کی انتظامیہ کا مستقبل میں فلسطینی اتھارٹی کے تحت آنا ایک "فطری پیش رفت” ہوگی”فلسطینی قومی مفادات کو کسی بھی داخلی تقسیم سے بالاتر ہونا چاہیے۔ غزہ کی حکمرانی فلسطین کی قانونی اتھارٹی اور اس کی حکومت کے ذریعے ہونی چاہیے، اور ہم مستقبل میں غزہ کو اسی تناظر میں دیکھتے ہیں۔”
اغابیکیان نے اس بات پر زور دیا کہ جنوری 19 سے نافذ کی گئی جنگ بندی کو ہر صورت برقرار رکھا جانا چاہیے۔ انہوں نے ان فلسطینی قیدیوں کا بھی ذکر کیا جو حالیہ قیدیوں کے تبادلے میں رہا ہوئے، اور کہا کہ انہیں معاشرے میں بحالی اور انضمام کی اشد ضرورت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ "مغربی کنارے میں صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، جہاں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جارحیت 21 جنوری سے جاری ہے، خاص طور پر جنین، طوباس اور طولکرم کے مہاجر کیمپوں میں۔” اغابیکیان نے خبردار کیا کہ "ہمیں خدشہ ہے کہ مغربی کنارے کو بھی غزہ کی طرح تباہی کا نشانہ بنایا جا سکتا ہے، جس کا مطلب یہ ہوگا کہ غزہ میں کیے گئے نسل کشی کے ہتھکنڈے مغربی کنارے میں بھی آزمائے جاسکتے ہیں۔”