(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غاصب صیہونی فوج کی جارحیت کے نتیجے میں 21 سالہ عمر عبد الحکیم اشتیہ شہید ہو گئے۔ اسرائیلی فوج نے سالم گاؤں پر دھاوا بول کر اندھا دھند فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں نوجوان کو سر پر گولی لگی۔ اسپتال منتقل کیے جانے کے باوجود وہ زخموں کی تاب نہ لا سکا اور فلسطینی وزارتِ صحت نے اس کی شہادت کی تصدیق کر دی۔
مغربی کنارے میں اسرائیلی جارحیت شدت اختیار کر گئی، یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا جب طولکرم شہر اور اس کے مہاجر کیمپ پر مسلسل 47 روز سے اسرائیلی حملے جاری ہیں، جبکہ نور شمس کیمپ پر بھی 34 دن سے فوجی یلغار کی جا رہی ہے۔ قابض فوج نے اضافی کمک تعینات کر کے گھروں پر دھاوے بولنے، شہریوں کو زبردستی گھروں سے بے دخل کرنے اور گرفتاریوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔
نابلس اور رام اللہ میں صیہونی دہشت گردی
قابض فوج نے رام اللہ کے قریب المزرعہ الغربیۃ گاؤں پر بھاری نفری کے ساتھ دھاوا بولا۔ دوسری طرف، نابلس کے جنوب میں دوما گاؤں میں انتہا پسند صیہونی آبادکاروں نے دہشت گردی کی انتہا کرتے ہوئے 6 گھروں اور ایک گاڑی کو آگ لگا دی۔ مقامی کونسل کے سربراہ سلیمان دوابشہ کے مطابق، اسرائیلی آبادکار مکمل منصوبہ بندی کے ساتھ فلسطینیوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔
چھاپے، گرفتاریوں اور فوجی یلغار میں اضافہ
گزشتہ روز قابض فوج نے الخلیل سے 8 فلسطینیوں کو گرفتار کر لیا، جن میں چار سگے بھائی اور چند سابقہ اسیران بھی شامل ہیں۔ مزید برآں، بیت لحم کے مشرقی علاقے کیسَان سے تین افراد کو اغوا کر لیا گیا، جبکہ نابلس اور بیت فُورِیک میں گھروں پر چھاپوں کے دوران ایک فلسطینی کو حراست میں لے لیا گیا۔
طولکرم میں فوجی محاصرہ، خوف و ہراس کی فضا
قابض فوج نے طولکرم اور اس کے مہاجر کیمپوں کے ارد گرد اضافی فوجی کمک تعینات کر دی ہے، اور نور شمس کیمپ میں پیدل فوج اور سنائپرز کی بڑی تعداد تعینات کر دی گئی ہے۔ ساتھ ہی، قابض فورسز نے زندہ گولیاں اور صوتی بم برسانے کے علاوہ، جبل النصر اور حارة المحجر میں گھر گھر چھاپے مار کر فلسطینی شہریوں کو زبردستی گھروں سے نکال دیا۔
غزہ پر اسرائیلی جنگ کے بعد مغربی کنارے میں بربریت میں اضافہ
7 اکتوبر 2023 کو غزہ پر شروع کی گئی نسل کشی کے بعد، اسرائیلی قابض فوج اور انتہا پسند آبادکاروں نے مغربی کنارے، بشمول القدس میں اپنے حملے تیز کر دیے ہیں۔ فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اب تک 930 فلسطینی شہید اور 7,000 زائد زخمی ہیں جبکہ ہزاروں گرفتار ہیں۔