(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کے بازاروں میں رمضان کی تیاریوں اور انتظامات کا فقدان ہے، جو غیر منظم صورت حال اور معاشی جمود کی عکاسی کرتا ہے۔ یہ صورتحال غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی پندرہ ماہ سے جاری مسلسل بمباری، تباہی اور اقتصادی نقصانات کا نتیجہ ہے۔
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے منظم بازاروں کی تباہی کے باعث غزہ میں رمضان کی روایتی اشیاء کی عدم موجودگی محسوس کی جا رہی ہے۔ بازاروں میں بنیادی ضروریات کی اشیاء، امدادی خوراک، ڈبہ بند کھانے، چاکلیٹ اور دیگر غذائی اجناس تو دستیاب ہیں، لیکن ان کی قیمتیں عام دنوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں۔
فانوس اور رمضان کی روشنیوں کی کمی
بازاروں میں رمضان کی رونق بڑھانے والے فانوس، روشنیوں اور زینت کی دیگر اشیاء کی بھی شدید کمی دیکھی جا رہی ہے، کیونکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی بمباری کے نتیجے میں بڑی تعداد میں عمارتیں منہدم ہو چکی ہیں۔ تاہم، کچھ دکاندار ان تمام مشکلات کے باوجود اپنے سامان کو نمایاں کرنے اور بازار میں کچھ خوشی کا ماحول پیدا کرنے کے لیے محدود پیمانے پر زینت کی اشیاء استعمال کررہے ہیں۔
معاشی بحران اور مہنگائی کا شدید دباؤ
رمضان کی تیاریوں میں مشکلات صرف دستیابی کی کمی تک محدود نہیں، بلکہ شدید معاشی بحران بھی ایک بڑا مسئلہ بن چکا ہے۔ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی نسل کشی کی کارروائیوں کے سبب 93 فیصد سے زیادہ کاروباری و اقتصادی شعبے تباہ ہوچکے ہیں، جس کے نتیجے میں لاکھوں فلسطینی اپنی آمدنی کے ذرائع سے محروم ہو چکے ہیں۔ اس دوران، بنیادی اشیائے خور و نوش کی قیمتوں میں بھی بے پناہ اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس کی وجہ سے بازاروں میں خریداروں کی موجودگی کے باوجود قوتِ خرید انتہائی کمزور ہو چکی ہے۔
گوشت اور مرغی عام آدمی کی پہنچ سے دور
جنگ کے دوران کچھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی بھی ہوئی، لیکن وہ اب بھی جنگ سے پہلے کے مقابلے میں مہنگی ہیں۔ چاول، چینی، اور خوردنی تیل جیسی بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں 50 سے 100 فیصد تک اضافہ ہوا ہے۔ گوشت اور مرغی عام فلسطینیوں کے لیے ایک نایاب شے بن چکے ہیں، اور زیادہ تر لوگ سادہ اور کم خرچ کھانوں پر گزارا کرنے پر مجبور ہیں۔
مارکیٹ کی غیر یقینی صورتحال
رمضان کے دوران روایتی طور پر گہما گہمی رہنے والی غزہ کی مارکیٹوں میں اس بار غیر یقینی صورت حال دیکھنے میں آ رہی ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ کئی اشیاء بازار سے مکمل طور پر غائب ہو چکی ہیں، جبکہ بعض دیگر اشیاء زیادہ مقدار میں دستیاب ہیں۔ تاجروں کو اشیاء کی فراہمی میں بے پناہ مشکلات کا سامنا ہے، کیونکہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل ضروری اشیاء کی ترسیل کو محدود رکھ رہی ہے۔
رمضان کی تیاریوں کی مایوس کن کیفیت
ایک مقامی تاجر سائد الجدیلی کا کہنا ہے کہ اس رمضان کی صورتحال غیر معمولی طور پر مختلف ہے۔ لوگ بازار آ رہے ہیں، لیکن خریداری بہت محدود ہو چکی ہے۔ صرف انتہائی ضروری اشیاء خریدی جا رہی ہیں، اور اکثر لوگ چیزوں کی قیمتیں پوچھ کر واپس چلے جاتے ہیں۔
غزہ میں بازاروں کو بحال کرنے کی کوششیں
معاشی ماہر احمد ابو قمر کا کہنا ہے کہ گزشتہ رمضان جنگ کے دوران گزرا، اور اس میں کوئی بھی روایتی تیاری ممکن نہ تھی۔ اس سال بھی صورتحال زیادہ مختلف نہیں، کیونکہ بازاروں میں کئی اہم اشیاء ناپید ہیں اور عام شہریوں کی قوت خرید بہت کمزور ہو چکی ہے۔
ابو قمر کا کہنا ہے کہ "رمضان کی آمد کے باوجود، بازار ابھی تک مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکے۔ اس کے باوجود کچھ دکاندار کوشش کر رہے ہیں کہ بازاروں کو کسی حد تک فعال رکھا جائے، تاکہ نقصان کو کسی حد تک پورا کیا جا سکے۔ تاہم، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے مسلسل رکاوٹیں ڈالنے کی وجہ سے تجارتی سرگرمیاں معمول پر نہیں آ سکیں۔”