(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا کہ اسرائیل غزہ میں ایک نیا سیکیورٹی کوریڈور بنانے پر کام کر رہا ہے۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق، اپنے بیان میں نیتن یاہو نے کہا: "ہم دباؤ کو بتدریج بڑھا رہے ہیں تاکہ وہ ہمارے یرغمالیوں کو ہمارے حوالے کریں۔ جتنا وہ اس سے انکار کریں گے، دباؤ میں اتنا ہی اضافہ ہوگا جب تک کہ وہ انہیں ہمارے حوالے نہ کر دیں۔”
نیتن یاہو کا یہ بیان غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر برائے سیکیورٹی یسرائیل کاٹز کے چند گھنٹے بعد آیا، جس میں کاٹز نے غزہ میں فوجی کارروائی میں بڑے پیمانے پر توسیع اور علاقے پر غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے کنٹرول میں لانے کے منصوبے کا اعلان کیا تھا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل جسے "موراج کوریڈور” کہہ رہی ہے، اس پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ یہ علاقہ رفح اور خان یونس کے درمیان ایک سابقہ اسرائیلی بستی کا نام تھا۔ عبرانی اخبار یدیعوت احرونوت کے مطابق، نیتن یاہو نے مزید کہا کہ یہ کوریڈور "فلاڈیلفیا 2” یا "اضافی فلاڈیلفیا کوریڈور” ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب کاٹز نے غزہ میں فوجی کارروائی کے دائرہ کار کو مزید وسیع کرنے، بڑے پیمانے پر شہریوں کو بے دخل کرنے اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے کنٹرول میں مزید علاقوں کو لانے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم، کاٹز نے ان علاقوں کی واضح حد بندی نہیں کی جنہیں اسرائیل اپنے زیر تسلط لانا چاہتا ہے۔
عبرانی میڈیا کے مطابق، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی 36ویں ڈویژن رفح کے مضافات میں پہنچ چکی ہے اور وہاں کے خلاف حملے میں شامل ہونے کے لیے تیار ہے۔ اسرائیلی نشریاتی ادارے کان نے اپنی ویب سائٹ پر اطلاع دی کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج نے پہلے ہی 36ویں ڈویژن کو غزہ میں داخل کر دیا ہے تاکہ زمینی حملے کو وسعت دی جا سکے۔ کان نے موجودہ زمینی کارروائی کو گزشتہ دو ہفتے قبل جنگ بندی کے خاتمے کے بعد کا سب سے بڑا حملہ قرار دیا۔
غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کا ایک چوتھائی غزہ پر قبضے کا منصوبہ
امریکی ویب سائٹ ایکسئوس نے منگل کے روز اطلاع دی کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج اپنی زمینی کارروائی کو وسعت دینے اور آنے والے ہفتوں میں غزہ کے 25 فیصد حصے کو اپنے کنٹرول میں لینے کا منصوبہ بنا رہی ہے۔ یہ وہی غزہ ہے جو 7 اکتوبر 2023 سے اسرائیلی جنگ کے نتیجے میں شدید تباہی کا شکار ہے۔
ایکسئوس نے ایک اعلیٰ اسرائیلی فوجی اہلکار کے حوالے سے کہا کہ یہ کارروائی نام نہاد "زیادہ سے زیادہ دباؤ” مہم کا حصہ ہے، جس کا مقصد حماس کو مزید یرغمالیوں کی رہائی پر مجبور کرنا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے غزہ پر دوبارہ قبضہ کرنا اس کے ابتدائی جنگی اہداف سے کہیں آگے بڑھ چکا ہے اور اس کا مقصد فلسطینیوں کو علاقے سے بے دخل کرنا ہے۔
منگل کے روز غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی فوج نے شمالی غزہ کے علاقوں بیت حانون، بیت لاہیا، الشیخ زاید، المنشیہ اور تل الزعتر کے رہائشیوں کو غزہ شہر کی طرف ہجرت کرنے کے احکامات جاری کیے۔ اس سے ایک دن قبل ہی رفح کے تمام شہریوں اور خان یونس کے بعض علاقوں کو خالی کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔