(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) یونیسیف کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے انکشاف کیا ہے کہ گزشتہ ایک سال میں کسی بھی ایک دن کے دوران غزہ میں سب سے زیادہ 174 بچے جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ ترکیہ کی انادولو نیوز ایجنسی کے جاری کردہ بیان میں انہوں نے کہا کہ غزہ سے موصول ہونے والی رپورٹس اور تصاویر اس انسانی المیے کی شدت کو نمایاں کر رہی ہیں۔
ان کے مطابق، دستیاب معلومات سے پتا چلتا ہے کہ حالیہ اسرائیلی حملوں میں سینکڑوں افراد مارے گئے، جن میں 174 بچے شامل ہیں۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ یہ ایک دن میں بچوں کی سب سے زیادہ اموات کا بدترین واقعہ ہے۔
کیتھرین رسل نے مزید کہا کہ اسرائیلی حملوں میں پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا گیا، جہاں معصوم بچے اور ان کے خاندان سو رہے تھے۔ انہوں نے کہا، "یہ ایک اور بھیانک حقیقت ہے جو ظاہر کرتی ہے کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں رہی۔”
انہوں نے اس بات پر بھی روشنی ڈالی کہ حملے اور انسانی امداد کی بندش بچوں کے لیے مزید خطرات پیدا کر رہی ہے، جبکہ آخری امدادی ٹرک کے غزہ میں داخل ہونے کو 16 دن گزر چکے ہیں۔
انہوں نے خبردار کیا کہ دس لاکھ سے زائد بچے، جو گزشتہ 15 ماہ سے جنگ کی تباہ کاریوں کا سامنا کر رہے ہیں، خوف اور موت کے سائے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا، "حملے اور تشدد کا سلسلہ فوراً رکنا چاہیے۔”
آخر میں، انہوں نے تمام فریقین سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین کی پاسداری کریں، فوری انسانی امداد کی فراہمی یقینی بنائیں، شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں اور تمام یرغمالیوں کو رہا کریں۔