(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) مقبوضہ فلسطین میں غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی وزارت جنگ اور فوج کے محکمہ بحالی کے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، غزہ پر صیہونی افواج کی وحشیانہ دہشتگردی کو 500 دن مکمل ہوگئے ہیں اس دوران 15 ہزار سے زائد صیہونی فوجی زخمی ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ، لاکھوں شدید نفسیاتی دباؤ اور دیگر ذہنی مسائل کا شکار ہو رہے ہیں۔
اسرائیلی اخبار معاریف نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست کی فوج اور وزارت جنگ کے فراہم کردہ اعداد و شمار سے جنگ میں ہونے والے نقصانات کی ایک "سنگین تصویر” سامنے آتی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، 7 اکتوبر 2023 سے جاری جنگ کے دوران اب تک 846 صیہونی فوجی اور سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ 15 ہزار زخمیوں میں سے 8600 جسمانی طور پر زخمی ہوئے، جبکہ 7500 فوجی اور اہلکار نفسیاتی عوارض جیسے کہ پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (PTSD)، شدید اضطراب، ڈپریشن، اور ایڈجسٹمنٹ ڈس آرڈر میں مبتلا ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، زخمی ہونے والے 66 فیصد اہلکار صیہونی فوج کے ریزرو فورسز سے تعلق رکھتے ہیں، 17 فیصد باقاعدہ فوجی ہیں، جبکہ 10 فیصد پولیس فورس کے اہلکار ہیں، جو غزہ پر حملے میں شریک رہے۔ عمر کے لحاظ سے، 51 فیصد زخمی فوجیوں کی عمریں 18 سے 29 سال کے درمیان ہیں، جبکہ 30 فیصد کی عمریں 30 سے 39 سال کے درمیان ہیں۔
فلسطینی مزاحمتی گروپوں کے خلاف دید جھڑپوں کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ جنگ کے آغاز سے اب تک 1500 صیہونی فوجی دو مرتبہ زخمی ہو چکے ہیں، لیکن انہیں دوبارہ جنگ میں جھونک دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق، کچھ فوجی پہلے مرحلے میں جسمانی طور پر زخمی ہوئے، علاج کے بعد دوبارہ لڑائی میں شامل کیے گئے اور پھر دوبارہ زخمی ہو گئے۔ اسی طرح، کچھ اہلکار نفسیاتی مسائل کی وجہ سے جنگ سے علیحدہ ہوئے لیکن بعد میں انہیں دوبارہ میدانِ جنگ میں بھیج دیا گیا، جہاں وہ ایک بار پھر ذہنی اور جسمانی صدمات کا شکار ہوئے۔
اسرائیل کی اندرونی صورتحال اور نفسیاتی بحران
اسی تناظر میں، غیر قانونی صیہونی ریاست کے ریاستی محتسب کی جانب سے حالیہ رپورٹ میں اسرائیلی معاشرے میں گہرے نفسیاتی بحران کی نشاندہی کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق، غزہ جنگ کے نتیجے میں لاکھوں اسرائیلی باشندے ذہنی دباؤ، اضطراب، اور پوسٹ ٹرامیٹک ڈس آرڈر میں مبتلا ہو سکتے ہیں، جبکہ صیہونی حکومت اس بڑے پیمانے پر پیدا ہونے والے نفسیاتی بحران سے نمٹنے کے لیے تیار نہیں ہے۔
رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ غیر قانونی صیہونی ریاست میں نفسیاتی صحت کی دیکھ بھال کا نظام شدید دباؤ میں ہے اور مریضوں کے لیے علاج کی طویل انتظار فہرستیں موجود ہیں۔ جسمانی طور پر زخمی فوجیوں کو سرجری، فزیو تھراپی اور دیگر طبی علاج کی طویل بحالی کے عمل سے گزرنا پڑتا ہے، جبکہ ذہنی مسائل کا شکار افراد بھی پیچیدہ صورتحال کا سامنا کر رہے ہیں۔
ماہرینِ نفسیات نے پیش گوئی کی ہے کہ آئندہ برسوں میں صیہونی فوج اور عام اسرائیلی شہریوں میں نفسیاتی امراض میں نمایاں اضافہ ہوگا، اور یہ بحران اسرائیل کے صحت اور سماجی بہبود کے نظام کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔