(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) غزہ کی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ 7 اکتوبر 2023 سے غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ میں شہید ہونے والوں کی تعداد 48 ہزار 239 اور زخمیوں کی تعداد 111 ہزار 676 ہو گئی ہے۔
وزارت صحت نے جمعرات کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 17 شہیدوں کی لاشیں غزہ کے ہسپتالوں میں پہنچی ہیں، جن میں سے 14 کی لاشیں ملبے سے نکالی گئیں جبکہ صیہونی دہشتگردی اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی میں 3 نئے شہید اور 9 زخمی ہوئے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ "ابھی بھی کئی متاثرین ملبے اور سڑکوں پر موجود ہیں جہاں ایمبولنس اور سول ڈیفنس کے عملے کو سامان کی کمی کی وجہ سے ان تک پہنچنے میں دشواری ہو رہی ہے۔”
جنگ بندی معاہدے کے باوجود، غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کی افواج غزہ میں فلسطینیوں کو بمباری یا ڈرون حملوں سے نشانہ بناتا رہا ہے، جس کے نتیجے میں شہداء اور زخمیوں کی تعداد میں روزانہ اضافہ ہو رہا ہے۔
19 جنوری کو غزہ میں فلسطینی مزاحمت اور غیر قانونی صیہونی ریاست اسرائیل کے درمیان جنگ بندی کا معاہدہ نافذ ہوا تھا، لیکن صیہونی ریاست کی جانب سے متعدد خلاف ورزیوں کے نتیجے میں مزاحمت کاروں نے اسرائیلی یرغمالیوں کو رہا کرنے سے انکار کردیا تھا۔
معاہدے کے پہلے مرحلے کی مدت 42 دن ہے، جس کے دوران مصر، قطر اور امریکہ کی ثالثی میں دوسرے اور تیسرے مرحلے کے لیے مذاکرات جاری ہیں۔
منگل کو غزہ کی وزارت صحت کے ڈائریکٹر جنرل منیر البرش نے اعلان کیا کہ جنگ بندی کے نفاذ کے بعد سے صیہونی افواج کے براہ راست حملوں کے نتیجے میں 92 فلسطینی شہید اور 822 زخمی ہوئے ہیں۔