(روز نامہ قدس ۔آنلائن خبر رساں ادارہ) فلسطینی خبر رساں ایجنسی وفا کے مطابق، غیر قانونی صیہونی ریاست کی بلڈوزر فورسز نے طولکرم پناہ گزین کیمپ میں گھروں کو مسمار کرنے کا سلسلہ پورے دن جاری رکھا، جس کا آغاز صبح کے وقت کیا گیا تھا۔ اس دوران صیہونی فوجیوں نے کئی گھروں کو آگ بھی لگا دی، جبکہ علاقے میں شدید فائرنگ کی آوازیں سنائی دیتی رہیں۔
وفا نے بتایا کہ غیر قانونی صیہونی ریاست کی فورسز نے کیمپ کے اندر 14 گھروں کو مسمار کرنے کے نوٹس جاری کیے تھے، اس دعوے کے ساتھ کہ وہ کیمپ کے بیچوں بیچ ایک سڑک تعمیر کر رہے ہیں، جو الوکالہ کے علاقے سے حارة البلاونة تک جائے گی۔
فلسطینی عوام پر ظلم کی نئی لہر
عوامی خدمات کمیٹی برائے طولکرم کیمپ کے سربراہ، فیصل سلامہ نے تصدیق کی کہ "دشمن کی فورسز نے آج صبح کسی بھی مہلت کے بغیر گھروں کو گرانا شروع کر دیا، یہاں تک کہ رہائشیوں کو اپنی ضروری اشیاء نکالنے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔”
انہوں نے مزید کہا کہ "کیمپ میں داخل ہونے میں کامیاب ہونے والے چند فلسطینی شہریوں نے جب اپنے گھروں کی حالت دیکھی، تو تباہی کا ناقابلِ تصور منظر ان کے سامنے تھا۔ کئی گھروں کو مکمل طور پر مسمار کر دیا گیا، اور کچھ کو نذرِ آتش کر دیا گیا۔”
سلامہ نے وضاحت کی کہ "اس قدر بڑی تعداد میں گھروں کی تباہی، جن میں سے ہر عمارت میں کئی منزلیں ہوتی ہیں اور متعدد فلسطینی خاندان رہائش پذیر ہوتے ہیں، کا مقصد کیمپ پر دوبارہ قبضہ جمانا ہے۔ یہ سب ایک منظم فوجی منصوبے کے تحت کیا جا رہا ہے تاکہ صیہونی فوجیوں اور ان کی گاڑیوں کی نقل و حرکت کو آسان بنایا جا سکے، ناجائز توسیعی منصوبے نافذ کیے جا سکیں، اور کیمپ کے نقشے کو صیہونی طرز پر تبدیل کیا جا سکے۔”